Khareeda Howa Damaad By Sania Peerzada NovelM80086 Last updated: 18 December 2025
Khareeda Howa Damaad
Author: Sania Peerzada
Novel code: NovelM80086
مصطفیٰ مسز فاخر کے اُسی فارم ہاؤس پہنچا.... جہاں مسز فاخرہ لان میں اس کی منتظر تھیں
آؤ لڑکے میں تمہارا ہی انتظار کر رہی تھی..... مسز فاخرہ مصطفیٰ کو دیکھ کر بولیں
اس لڑکے کا کوئی نام بھی ہے
ہممم معلوم ہے بیٹھو.... مسز فاخرہ کو مصطفیٰ کی بات نہ گوار گزری
مصطفیٰ کرسی گھسیٹ پر نشست پر برجمان ہوا
یہ کچھ کاغذات ہیں پڑھ لوں اچھے سے... مسز فاخرہ نے ایک فائل مصطفیٰ کے اگے پھینکی
مصطفیٰ نے فائل کھول کر کاغذات پڑھے تو اُس کا رنگ اڑ گیا
میڈم جی میں انسان ہوں.... آپ نے تو مجھے جانور بنا دیا ہے.... جس کو ایک بار خرید لیا جاۓ تو مالک کے علاوہ اور کسی کا کوئی حق نہیں رہتا.... مصطفیٰ خود کو بہت حقیر سمجھ رہا تھا
اپنی اوقات میں رہو.... زیادہ زبان چلانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے.... مسز فاخر ماتے پر تیواری ڈال کے بولیں
کاغذات سے زیادہ آپ میری زبان پر بھروسہ کر سکتیں ہیں... کچھ شرائط میری بھی ہیں.... مصطفیٰ بھی سخت لہجے میں بولا
بولو؟.... مسز فاخر مصطفیٰ کو گھور کے بولیں
ہفتے میں چھ دن آپ کا غلام بن کے رہو گا ایک دن اپنے خاندان کے پاس جاؤں گا
نہیں یہ شرط مجھے منظور نہیں ہے
ٹھیک ہے پھر مجھے بھی نہیں بکنا.... مصطفیٰ اٹھ کھڑا ہوا
ٹھیک ہے مجھے منظور ہے....مسز فاخر نے مصطفیٰ کے سامنے ہتھیار ڈال دیے
شکریہ..... آپ کی اور ساری شرائط مجھے منظور ہیں
اور .... اگر تم دھوکے باز نکلے تو؟؟؟؟؟
اگر میں نے آپ کے ساتھ دھوکہ کیا تو روز و حشر میری مری ہوئی ماں بھی مجھے معاف نہیں کرے گی... اس سے زیادہ اور کچھ نہیں کہہ سکتا....
مصطفیٰ کی بات مسز فاخر کے دل کو لگی...اور وہ مطمئن ہوگئیں
مصطفیٰ میرا نام ہے رتبہ ہے.... اسلئے میرے داماد کا بھی نام اور رتبہ ہونا ضروری ہے.... اسلئے تمہے اپنی شخصیت اور پیچان بدلنی پڑے گی
وہ کیسے؟؟؟.... مصطفیٰ ناسمجھی سے بولا
تم دنیا کے سامنے مصطفیٰ شاہ ہوں گے..... جو نیو یارک میں پڑھائی مکمل کرنے کے بعد پاکستان میں اپنا بزنس کرنے آئے گا
لیکن یہ کیسے ممکن ہے؟؟
پیسے سے سب ممکن ہو جاتا ہے.... مسز فاخر نے ایک نقلی شناختی کارڈ اور کچھ کاغذات مصطفیٰ کے سامنے رکھے
مصطفیٰ کو اپنا نقلی پیچان کا شناختی کارڈ دیکھ کر شدید دکھ ہوا... جہاں اس کے ولدیت بھی اور نام سے تھی
کل رات تم میرے گھر آؤں گے تمہارا اور نگینہ کا نکاح کیا جاۓ گا.... ایک مہینے بعد میرے گھر پارٹی ہوگی
تم میرے گھر آؤں گے اور پھر مجھ سے ہی میری ایک ملٹی انٹرنیشنل کمپنی خریدو گے....
میں کیسے کمپنی خریدو گا؟... مصطفیٰ چونکا
تمہارا اکاؤنٹ اربوں روپے سے بھر دیا جاۓ گا....پھر جب تم مشہور ہو جاؤ گے مجھ سے نگ کا رشتہ مانگوں گے.... اور تم دونوں کی شاندار شادی کی جاۓ گی
اور میرا قرضہ زمین اور علاج؟؟.... مصطفیٰ کو ان باتوں میں کوئی دلچسپی نہیں تھی
وہ سب آج ہی ہو جاۓ گا.... مسز فاخر بیزاری سے بولیں
جی شکریہ.... مصطفیٰ نے سکون بھری لی
ہمم ویسے تو تم تھوڑے سے پڑھے لکھے ہوں... لیکن ہوں تو غریب بھوکے دیہاتی.... اس لئے میں نے تمہارے لئے باہر سے ایک ٹرینیر بلوایا ہے جو تمہے بولنے اٹھانے بیٹھنے کھانے کا سلیقہ سیکھے گا..... مسز فاخر کا غرور سر چڑھ کر بول رہا تھا
جی.... مصطفیٰ کے دل پر تیر کی مسز فاخرہ کی باتیں وار کر رہیں تھی..... لیکن خاموش رہنا اس کی مجبوری تھی
تم تب تک اسی فارم ہاؤس میں رہو گے.... وہ ٹرینر بھی آج آجاۓ گا.... اور ہاں کل رات کو نکاح کے لئے آجانا.... مسز فاخر جانے کے لئے اٹھ کھڑیں ہوئیں
جی....مصطفیٰ بھی ان کو رخصت کرنے کے لئے اٹھ کھڑا ہوا
......................................................................
Summary
Khareeda Howa Damaad is a social–romantic novel that explores the realities of forced decisions, social pressure, and emotional imbalance within marriage. The story centers around a marriage arranged through financial and societal convenience, where emotions and consent are overshadowed by power and expectations.
The novel highlights the inner struggles of the characters as they navigate a relationship built on obligation rather than love. It portrays the emotional distance, silent resentment, and gradual transformation that occur when two individuals are bound together without mutual understanding.
Through its narrative, the story sheds light on themes of dignity, self-respect, and the consequences of treating relationships as transactions. Ultimately, the novel emphasizes that true companionship cannot be bought—it must be built on respect, empathy, and genuine connection.