Ishq Diya Zanjeera by Ayesha Mughal NovelM80055 Ishq Diya Zanjeera (Episode 03)
Ishq Diya Zanjeera (Episode 03)
اس ناول کے جملہ حقوق بحقِ مصنفہ سَدز حسن اور میگا ریڈرز ویب سائٹ کے پاس محفوظ ہیں۔
کسی بھی دوسری ویب سائٹ، گروپ یا پیج پر اس ناول کو بغیر اجازت کے پوسٹ کرنا سختی سے منع ہے۔
بغیر اجازت مواد چوری کرنے کی صورت میں قانونی کارروائی کی جائے گی۔
اس ناول کو یوٹیوب پر دوبارہ پوسٹ کرنا بھی منع ہے۔
یہ ناول ہمارے یوٹیوب چینل ناولستان پر پہلے ہی پوسٹ کیا جا چکا ہے، جہاں سے مکمل اقساط دیکھی یا سنی جا سکتی ہیں۔
Ishq Diya Zanjeera by Ayesha Mughal
” یہ صمید بھائی سے بات کرنا ہی تو فضول ہے ان سے اچھا تو وہ یونی کا بدمعاش لڑکا ہے کتنے کھڑوس ہیں یہ تو۔۔۔۔ ہر وقت ہی شک کرتے ہیں ۔۔۔۔۔ میں نے ان کی بندر جیسی شکل والے دوست دیکھ کر کیا کرنا ہے ” وہ خود سے باتیں کرتی ہوئی اپنی جیولری دیکھ رہی تھی ۔
پھر اس نے گہری سانس لے کر موبائل نکال کر سدید کا نمبر ڈائل کیا پہلی ہی بیل پر اس کی کال پک کر لی گئی ۔
” سدید بھیاء آپ مجھے بنا بتائے کہاں چلے گئے ہیں ابھی تک آپ نے مجھے درئس اور جیولری بھی سلیکٹ کر کے نہیں دی بس جہاں بھی ہیں آجائیں۔ بندر کی شکل والے صمید بھائی نے آپ کے چہرے میں میری بےعزتی کر دی ” وہ معصومیت سے منہ بناتی ہوئی بول رہی تھی ۔
” اچھا تم پرشان مت ہو میں کچھ دیر میں آتا ہوں ” سدید نے یہ کہہ کر کال کٹ کر دی ۔
وہ ڈریس دیکھ رہی تھی اس کا پھر سے موبائل بجنے لگا تھا ا سے لگا سدید کی کال ہو گی اس نے بنا دیکھے ہی کال پک کر لی اور پھر سے بولنے لگی
” اب ہوئی بہانہ نہیں بنانا آپ نے بس جلدی سے آجائیں اور مجھے ڈریس کی سلیکشن کر کے دیں۔ “
” آپ کو لہنگا بہت اچھا لگے گا بارات پر بلیک ساڑھی میں غضب لگو گی ولیمے پر وائٹ میکسی ڈالئیے گا ” دوسری طرف آنے والی آواز نے پرہیان کو ساکت کر دیا تھا ۔
” ہیلو کدھر گم ہو گئی ہیں مجھ سے بات کریں ” دوسری طرف سے دوستانہ انداز میں کہا گیا اس نے جلدی سے اپنے کانپتے ہوئے ہاتھوں سے موبائل بند کر دیا تھا اس کا سارا جسم ہی کانپنے لگ گیا تھا پرہیان نے جلدی سے اس کا نمبر بلاک کر دیا اس نے نگاہیں۔ اٹھا کر ڈریسز کی طرف دیکھا تو بےساختہ لبوں پر مسکراہٹ بکھر گئی تھی وہ ساڑھی اٹھا کر دیکھنے لگی تھی وہ نہ جانے کب سے اپنے خیالوں میں گم تھی جب سدید کمرے میں داخل ہوا ۔
” بھیاء آپ اتنی جلدی آ بھی گئے ہیں ” وہ ہنستی ہوئی بولی ۔
ذ” ایسا ہو سکتا ہے میری شہزادی مجھے بلائے اور میں نہ آؤں دیکھاؤ مجھے ڈریسسز میری شہزادی کو کیا پرشانی ہو رہی ” وہ دیکھنے لگا تھا اس کے کپڑے ۔۔
★★★
” یار کیوں اتنا خوش ہے بھئی مجھے بھی تو کچھ بتا ” شاذر کب سے اس کے پاس بیٹھا اس سے پوچھ رہا تھا ۔
” نہیں بتاؤں گا “
” یار حازق بس ہو گئی نہ میری پلیز بتا دے نہ مجھے اب کیوں تنگ کر رہا ” شازر تجسس سے پوچھنے لگا ۔
” اچھا بتا رہا ویں نہ میری اس سے بات ہوئی ہے بس اتنا ہی اور اب کیا بتاؤں ” حازق مسکراتا ہوا کہنے لگا ۔
” یار مجھے اس کی تصویر ہی دیکھا دے کوئی میں بھی دیکھوں اخروی چیز کیا ہے جس نے میرے بھائی کو پاگل بنا رکھا ہے ” شاذر ٹانگ پر ٹانگ رکھتا ہوا بولا ۔
” میں اس سے تصویر نہیں مانگ سکتا ” حازق شرما کر بولا ۔
شاذر اس سے جانچتی نظروں سے دیکھ کر بولا ۔
” کیوں نہیں دیکھا سکتا “
” بھائی میرے پاس ہی ایک پک ہے نہ وہ نہیں دیکھانی بس میرے ساتھ اس سے دلہن بنا دیکھ لینا ” حازق لال ہوتا ہوا بولا اور شاذر کو ہنسی آرہی تھی جیسے وہ لڑکیوں کی طرح شرما رہا تھا ۔
” یار میں بابا سے بات کرتا ہوں لڑکے کو محبت ہو گئی ہے شادی کرو اس کی ” شازر نے ہنستے ہوئے کہا ۔
” او یار کیوں مجھ غریب کو شادی سے پہلے ہی بیوہ کرنے پر تلا ہوا ہے بابا جانی نے کاٹ کے رکھ دینا ہے مجھ معصوم کو آپس کی بات ہے مجھے بہت ڈر لگتا ہے بابا جانی سے ویسے میری اس کے ساتھ شادی ہو جائے گی ” سارے خواب سجانے کے بعد وہ معصومیت سے کہنے لگا ۔
” یار توں پرشان نہ ہو میں خود بابا جانی کو منا لوں گا ویسے بھی بابا جانی میری بات سب سے زیادہ مانتے ہیں ” شازر نے ہنس کر کہا ۔
” او ہیلو مسٹر بابا جانی میری بات زیادہ مانتے ہیں میں تو ان کا لاڈلہ ہوں” حازق نے کالر جھاڑا ۔
” اچھا سہی ہے پھر میں تیری شادی ہی نہیں ہونے دوں گا ” شاذر نے اسکی کمر میں مکہ رسید کیا ۔
شاویز ایک دم سے کمرے میں داخل ہوئے دونوں یوں خاموش ہو گئے جیسے انھیں کوئی سانپ سونگھ گیا ہو ۔
” میرے آتے ہی دونوں کی زبانیں بند کیوں ہو گئی ہیں ۔ ایسی کون سی باتیں ہو رہی تھیں جو میرے سامنے نہیں ہو سکتی تھیں ” شاویز صوفے پر بیٹھتا ہوا بولا وہ دونوں جانتے تھے اگر شاظوز ہو ان کے ارادے پتہ چل گیے تو ان کی خیر نہیں تھی اس وجہ سے دونوں نے جواب نہ دیا ۔ شاویز نے ہنستے ہوئے ایان موبائل اٹھایا جو وہیں پڑا ہوا تھا جس میں دونوں کی باتیں ریکارڈ ہو چکی تھیں ” اب دیکھتا ہوں کیسے تم دونوں مجھ سے باتیں چھپاتے ہو ” وہ ہنس کر بولا ۔
★★★
قہ ٹریولنگ بیگ گھسیٹتا ہوا اپنے کمرے میں داخل ہوا تھا اس نے جیسے ہی دروازے کے ہینڈل پر ہاتھ رکھا دروازہ کھلتا چلا گیا سب کچھ یہاں ویسا ہی لگ رہا تھا جیسا وہ چھوڑ کر گیا تھا کچھ بدہا ہوا نہیں لگ رہا تھا وہی ویران گھر ہر طرف خاموشی جیسے اس گھر میں کوئی نہ رہتا ہو کسی شخص کی تلاش تھی اسس کی نگاہوں کو وہ تھک ہار کر آکر بیڈ پر بیٹھ گیا وہ اس جگہ واپس نہیں آنا چاہتا تھا مگر ا اسے زبردستی بلایا گیا تھا بہت سی بھیانک یادوں نے اس سے گھیر لیا تھا وہ نہ واہس آنے کےلیے گیا تھا مگر اس سے واپس آنا پڑا اس سے لگ رہا تھا کوئی اس کے روک میں ہو گا کو اس کے انتظار میں ہو گا پھر اچانک ہی خیال آیا جس سے ا نے کبھی دیکھا ہی نہیں تھا وہ کیوں اس کا انتظار کرتی جس سے وہ اپنے نام سے باندھ کو چھوڑ گیا تھا وہ کیوں اس کےلیے بیٹھی ہو گی پر وہ کہاں ہو سکتی ہے وہ اپنی سوچوں میں مگن تھا جب نوکرانی نے آکر ا۔وسے اطلاع دی بڑے صاحب آپ کو بلا رہے ہیں وہ کسی سے ملنا نہیں چاہتا تھا مگر مجبور ہو کر اس سے اٹھ کر جانا پڑا وہ کمرے میں داخل ہوا۔
” بابا آپ نے بلایا تھا ٫” وہ صوفے پر ان کے برابر بیٹھ کر بولا ۔
” واپس آئے ہو اتنے سالوں بعد ملنے بھی نہیں آئے باپ وہ بھول گئے ہو کیا ” وہ اس کا کندھا تھپک کر بولے ۔
” نہیں بابا کیسی باتیں کر رہے ہیں بس تھک گیا ہوں اس وجہ سے سوچا تھا فریش ہو کر آپ کے پاس آؤں گا” وہ وضاحت دیتا ہوا بولا ۔
” اچھا ٹھیک ہے جا کر آرام کرو صبح بات ہو گی تم سے ” وہ یہ کہہ کر اٹھ کر چلے گیے وہ اٹھ کر۔ اپر کی طرف جانے کفامگر سامنے سے آتی لڑکی سے اس کی ٹکر ہو گئی اس سے پہلے کے وہ گرتی اس نے اپنے مضبوط بازوؤں میں اس سے تھام لیا وہ لڑکی جلدی سے اس کو دھکا دے کر سیدھی ہوئی اور وہاں سے چلی گئی وہ اس سے جاتا ہوا دیکھنے لگا ۔
” بوا بات سنئیں یہ وہی لڑکی ہے جس سے میرا نکاح ہوا تھا ” وہ ملازمہ سے پوچھنے لگا ۔
” جی شاہ جی یہ وہی لڑکی ہے جس کے ساتھ آپ کا نکاح ہوا تھا ” وہ ملازمہ اس کی بات کا جواب دے کر وہاں سے چلی گئی۔۔۔۔۔ وہ لان میں آگیا مگر اس کا دل بےترتیبی سے دھڑک رہا تھا وہ بلکل اس گھر میں خود کو تنہا محسوس کر رہا تھا ۔
” کیا وہ نہیں جانتی میں اس کا شوہر ہوں جب اس گھر میں میرے نام کے ساتھ جوڑ کر اس سے لایا گیا تھا وہ ایسی تو نہیں تھی اس کے تو اپنے گھر والوں کو اس کی پرواہ نہیں ہے وہ تو میرے سپرد تھی میں غلط کر رہا ہوں اس کے ساتھ کتنے سال اس نے اکیلے گزارے ہیں اس کا۔تق کوئی اپنا بھی مجھ۔ تھا اس گھر میں وہ تو بےگناہ تھی پھر کویں اس سے سزا ملی وہ تو سزا کی حقدار ہی نہیں تھی سزا تو ا سکے بھائیوں کو ملکی چاہیے تھی ” وہ خود سے مخاطب تھا۔
★★★
” یار یہ کیا بات ہوئی یہ تم کیا کہہ رہی ہو بھئی اگر تک نے بارات کے ساتھ نہیں آنا تو میں بھی پھر نہیں جا رہا ” سدید اس کے ساتھ بیٹھ کر بولا ۔
” بھائی پہلے آپ صمید بھائی کو سمجھائیں مجھے کیوں بات بات پر ڈانٹ رہتے ہیں اگر مجھ پر کسی نے کمنٹ پاس کیا تو ا میں میرا کیا قصور تھا ان کے اپنے دوست ہی ایسے ہیں میں نے نہیں آنا بابا بھی مجھے ہی ڈانٹ دیتے ہیں ماماا کی تو میں بیٹی ہی نہیں ہوں ” وہ اپنی نم آنکھوں کو صاف کرتی ہوئی بول رہی تھی سدید آٹھ کر الماری سے اس کے کپڑے اور جیولری نکالنے لگا ۔
” اس کی ایسی کی تیسی تم رونا بندکرو دیکھنا میں اس کا کیا حال کرتا ہوں شاباش میرا بچہ اٹھو اور اپنے دولہا بھائی کو بھی پرشان نہ کرو تمہاری بھابھی کیا سوچے کی کے سدید کیمجھ سے زبردستی شادی کر رہے ہیں ” سدید اس کی جیولری دیکھتا ہوا بول رہا تھا اس کی بات سن کر پرہیان کے لبوں پر مسکراہٹ بکھر گئی۔
” چلیں چھوڑیں میں خود نکال لیتی ہوں ” وہ اس کی گال کھینچ کر بولی ۔
★★★
وہ بیڈ پر بیٹھی بک پڑھ رہی تھی کمرے میں ہلکی ہلکی روشنی تھی جب دروازے پر دستک ہوئی اس نے جلدی سے بک چھپا کر اپنے اوپر کمبل اوڑھ لیا اس کا سارا وجود کانپنے لگ گیا اس نے اپنے منہ پر ہاتھ رکھ کیا تھا اپنی سسکیاں روکنے کی کوشش کر رہی تھی دروازے ہر پوری دستک اس کے دل کو ڈرا رہی تھی نہ جانے کتنے سالوں سے وہ اس شخص سے خود کو بچا رہی تھی جب دروازے پر دستک بند ہوئی وہ ہلکا ہلانے رونے لگی تھی اس کے آنسو بہتے جا رہے تھے اس سے نہیں معلوم تھا جب تک اس کی زندگی یوں ہی گزرے گی ایک امید تھی جو اب بھی باقی تھی وہ اٹھی اور کمرے کا دروازہ کھولا مگر سامنے کوئی بھی نہیں تھا وہ ڈرتی ہوئی کچن میں گئی فریج کھول کر کچھ نکال کر کھانے لگی اچانک وہ رک گئی جیسے اس کے پیچھے کوئی کھڑا ہو ۔ وہ ڈرتی ہوئی بولی ۔
” میں نے کتنی بار آپ وہ کہا ہے میرے پیچھے مت ایا کریں آپ یو چاہتے ہیں وہ ناممکن ہے اگر آج کے بعد آپ نے رات کے وقت میرے روم کا دروازہ بجایا میری ایک بات یاد رکھنا میں نے اپنے ساتھ کچھ کر لینا ہے ” پیچھے کھڑا شخص اس کی باتوں میں الجھ گیا وہ کتنی ڈری ہوئی تھی وہ اس کی پشت دیکھ رہا تھا کمر تک آتے سیاہ بال جو سیاہ۔ چادر سے بھی نظر آرہے تھے وہ اس سے بات کرنا چاہتا تھا مگر اس میں اتنی ہمت ہی نہ ہوئی کے وہ اس سے بتا سکے وہ اس کا شوہر ہے اس نے چھونے کےلیے ہاتھ آگے بڑھایا ۔