Ishq Diya Zanjeera by Ayesha Mughal NovelM80055 Ishq Diya Zanjeera (Episode 02)
Ishq Diya Zanjeera (Episode 02)
اس ناول کے جملہ حقوق بحقِ مصنفہ سَدز حسن اور میگا ریڈرز ویب سائٹ کے پاس محفوظ ہیں۔
کسی بھی دوسری ویب سائٹ، گروپ یا پیج پر اس ناول کو بغیر اجازت کے پوسٹ کرنا سختی سے منع ہے۔
بغیر اجازت مواد چوری کرنے کی صورت میں قانونی کارروائی کی جائے گی۔
اس ناول کو یوٹیوب پر دوبارہ پوسٹ کرنا بھی منع ہے۔
یہ ناول ہمارے یوٹیوب چینل ناولستان پر پہلے ہی پوسٹ کیا جا چکا ہے، جہاں سے مکمل اقساط دیکھی یا سنی جا سکتی ہیں۔
Ishq Diya Zanjeera by Ayesha Mughal
اس کی آنکھوں میں نمی تیر آئی جس سے گاہوں تک آنے میں دیر نہیں لگی تھی سدید نے گھور کر اپنے باپ کی طرف دیکھا جس بات سے وہ دور بھاگتی تھی وہ اتنا ہی اس بات کا زکر کرتے تھے ۔
” میری جان کوئی آپ کی شادی نہیں کرے گا میں یوں نہ ” وہ اس کے آنسو صاف کرتا ہوا بولا۔
” بگاڑو اس کو تا کے یہ اپنے شوہر کا سخت لہجہ بھی برداشت نہ کر سکے ” اسمائیل شاہ نے غصہ میں کہا ان کی بات سن کر پرہیان وہاں سے روتی ہوئی اٹھ کر چلی گئی ۔
” بابا کیوں وہ بات بار بار دھراتے ہیں جس سے اس کو تکلیف ہوتی ہے اگر وہ شخص پرہیان کے قابل ہوتا تو میں خود اس کے پاس چھوڑ آتا پرہیان کو وہ میری بہن کے قابل نہیں تھا اور ویسے بھی بابا میں نے اس کی تربیت کی ہے اس کے خرچے میں اٹھاتا ہوں اس سے پالا میں نے ہے تو پھر شادی کرنے کا حق بھی میں ہی رکھتا ہوں اس کےلیے کیا غلط ہے کیا درست ہے میں اچھے سے جانتا ہوں۔۔۔۔۔ اور ہاں بابا جانی ایک بات سن لیں آپ لوگوں نے بس پیدا کیا ہے بس اسی بات کی بیٹی ہے وہ آپ کی ورنہ آپ نے تو نوکروں کے حوالے کر دی تھی کیونکہ آپ کو تو بیٹی چاہیے ہی نہیں تھی ” وہ سنجیدگی سے یہ سب کچھ بول کر چلا گیا ۔ اسمائیل شاہ غصہ میں اپنے فرمانبردار بیٹے ہو دیکھ رہے تھے جو غصہ میں انھیں کھری کھری سنا کر گیا تھا ربانہ بیگم اس سے غصہ میں دیکھ رہی تھی صمید مزے سے اپنی بریانی کے ساتھ انصاف کر رہا تھا جیسے اس سے ان سب سے غرض ہی نہیں تھی
★★★
“مجھے آپ روتی ہوئی بلکل بھی اچھی نہیں لگتیں ” وہ روم میں داخل ہوتا ہوا پرہیان سے کہنے لگا اس نے جلدی سے اپنے آنسو صاف کیئے ۔
” کیوں اتنا رو رہی ہو میں۔ نے کہا ہے نہ کوئی بھی نہیں کرے گا تمہاری ” سدید اس کے پاس بیٹھتا ہوا بولا ۔
” پر بھیاء آپ نے تو پہلے بھی ایسے ہی کہا تھا اور بابا نے —- اس نے اپنی بات ادھوری چھوڑ دی۔
” میری جان رونا بند کرو نہ میں نے اگر تمہاری شادی تمہاری مرضی کے خلاف ہی کرنی ہوتی تو کبھی بابا کے منع کرنے کے باوجود ڈیورس نہ دلواتا اور میں آپ کی مرضی کے بنا کچھ نہیں کروں گا۔۔۔۔ ویسے میرا بچہ شادی کرنا کیوں نہیں چاہتا سب لڑکے ایک جیسے نہیں ہوتے کچھ آپ کے بھائی جیسے اچھے بھی ہوتے ہیں” وہ اپنا کالر اکڑا کر بولا ۔
” جی نہیں میرا بھائی لاجواب ہے ” وہ ہنس کر۔ بولی۔
” اچھا مجھے بتاؤ شادی کیوں نہیں کرنی کسی کو پسند کرتی ہو کیا ” وہ نرمی سے پوچھنے لگا اس کی انکھوں کے سامنے اچانک سے حازق کا چہرہ آگیا ۔
” نہیں میں تو کسی کو نہیں پسند کرتی ” وہ ذبردستی مسکراتی ہوئی بولی۔ اتنے میں سدید کا موبائل بجنے لگا ۔
” اوہ آپ کی بھابھی کی کال آرہی ہے میں آتا ہوں تھوڑی دیر تک ” وہ سرگوشیانہ انداز میں مسکرا کر کہتا ہوا چلا گیا پرہیان نے آنکھیں بند کر کے بیک کراؤن سے ٹیک لگا لی ۔
★★★
” ماں یہ بابا جانی کدھر ہیں ” حازق چیئر پر بیٹھتا ہوا بولا۔
” بابا جانی شہر جانے کی تیاری کر رہے ہیں ” جواب شاہ ویز کی طرف سے آیا ۔
” او اچھا اچھا ! ویسے ماں بابا جانی پر دھیان رکھا کریں مجھے لگتا ہے بابا جانی کو شہر میں عشق ہو گیا ہے اس وجہ سے اپنی معشوقہ سے ملنے جاتے ہیں ” وہ بےدھیانی میں بولے جا رہا تھا شاویز نے گلا کنھکار کر اس سے پیچھے دیکھنے کا اشارہ کیا حازق نہ سمجھی کے عالم میں اپنی بک بک پھر سے کرنے لگا ۔
” ماں ایک دن میں یونی سے واپس آرہا تھا تو راستے میں دیکھا ایک ریسٹورنٹ پر بابا جانی ایک لڑکی کے ساتھ ڈیٹ مار رہے تھے میں نے تو سوچا رنگے ہاتھوں پکڑ لوں پھررررر۔۔۔۔۔۔۔”
” کیا پھر….” فرقان صاحب نے اس سے کان سے پکڑ کر اٹھایا۔
” آ بابا جانی رحم کریں بچے پر ۔۔۔۔ پھررر۔۔۔ پھر میں اتنا ہی جھوٹ بول سکتا ہوں میرا کان تو چھوڑیں اگر اتر گیا تو آپ کے بیٹے کو لڑکی کون دے گا میں تو کنوارہ مر جاؤں گا ” وہ معصومیت سے کہنے لگا اس کی بات پر سب مسکرانے لگے ۔
” ماں سمجھا لیں اپنے شوہر کو ” وہ منہ بناتا ہوا بولا ۔
” تو توں بھی یار زیادہ بکواس نہ کیا کر ” وہ دوستانہ انداز میں اپنے بیٹے کو کہنے لگے ۔
” ماں بھائی کی اب شادی کر دیں بےچارہ کب سے انتظار کر رہا ہے شادی کا ” حازق نے شاویز کو چھیڑا ۔
” بابا جانی اپنے لاڈلے کو سمجھا لیں میرے ساتھ مذاق مت کرے ” وہ حازق کو گھورتا ہوا بولا ۔
اچھا سب خاموشی سے کھانا کھاؤ ” دردانہ بیگم نے نرمی سے کہا ۔
” ماں کچھ پل کی زندگی ہے بندہ کھل کر انجوائے کرے ” حازق نے ہنس کر کہا ۔
” توں نے تو آبِ حیات ہی رکھا ہے ہمیں مار کر مرے گا ” شاویز نے ہنس کر کہا ۔
” اچھا شاویز بھائی میری برتھ ڈے آرہی ہے مجھے کیا گفٹ دیں گے ” حازق نے نرمی سے پوچھا ۔
” شاویز بھائی آپ تو بولا ہی نہ کریں یہ کوئی نہ کوئی فرمائش کر دیتا ہے آپ سے ” شاذر جو کب سے خاموش بیٹھا ہوا تھا ہنس کر بول پڑا ۔
” یار لاڈلہ بھائی ہے مجھے نہیں بولے گا تو کس کو بولے گا ” شاویز نے حازق کا ساتھ دیا ۔
” بگاڑو جناب کو ” شاذر سنجیدہ ہو کر بولا۔
” بابا جانی دیکھ رہے ہیں شاذر بھائی مجھ سے جیلس ہو رہے ہیں انھیں ایک بیوی لا دیں تاکے اس سے جیلس ہوں مجھ سے نہ ہوں” حازق منہ بنا کر بولا
” کیوں میں نے بھلا کیوں اپنی بیوی سے جیلس ہونا ۔
” کیونکہ وہ آپ سے زیادہ آپ کے بچوں سے پیار کرے گی پھر آپ نے بھی جیلس ہونا ” وہ ہسنتے ہوئے بولے جا رہا تھا اور فرقان شاہ خونخوار نظروں سے گھور رہے تھے اس کی بات سن کر شاذر کا چہرہ لال ہو چکا تھا ۔
” بڑی بےشرم اولاد دی ہے خدا نے مجھے ” فرقان شاہ دانت پیس کر بولے ۔
” بابا جانی اس میں بےشرمی والی کیا بات ہوئی اگر شادی ہو گی تو بچے توں ہوں گے نہ ” اس کی بات سن کر سب گھورنے لگے اس نے پلیٹ میں کانٹا پھینکا اور غصہ میں اٹھ کر چلا گیا ۔
★★★
” پرہیان یہاں کیا کر رہی ہو میں نے منع کیا تھا نہ باہر مت آنا ” صمید نے ا ڈسے باہر دیکھ کر اس کی اچھی خاصی کلاس لگا دی ۔
” وہ میں تو سدید بھائی کو دیکھ رہی تھی ” وہ نگاہیں جھکا کر بولی ۔
” وہ سیلون پر تشریف لے گئے ہیں اب تم مجھے باہر نظر مت او دیکھ نہیں رہی ورکر ڈیکوریشن کا کام کر رہے ہیں ” وہ صمید کی بات سن کر منہ بناتی ہوئی کمرے میں آگئی ۔