Khareeda Howa Damaad By Sania Peerzada NovelM80086 Khareeda Howa Damaad (Episode - 36) 2nd Last Episode
Khareeda Howa Damaad (Episode - 36) 2nd Last Episode
اس ناول کے جملہ حقوق بحقِ مصنفہ سَدز حسن اور میگا ریڈرز ویب سائٹ کے پاس محفوظ ہیں۔
کسی بھی دوسری ویب سائٹ، گروپ یا پیج پر اس ناول کو بغیر اجازت کے پوسٹ کرنا سختی سے منع ہے۔
بغیر اجازت مواد چوری کرنے کی صورت میں قانونی کارروائی کی جائے گی۔
اس ناول کو یوٹیوب پر دوبارہ پوسٹ کرنا بھی منع ہے۔
یہ ناول ہمارے یوٹیوب چینل ناولستان پر پہلے ہی پوسٹ کیا جا چکا ہے، جہاں سے مکمل اقساط دیکھی یا سنی جا سکتی ہیں۔
Khareeda Howa Damaad By Sania Peerzada
نوری کی ماں نگینہ کو شانی کا ماضی بتانے لگی
شانی اسکول پڑھنے جاتی تھی….
دوسرے پنڈ کے زمینداروں کا بیٹا ہمہاری شانی کی خوبصورتی پر فدا ہوگیا اور شانی کو بھی اپنی محبت کے جال میں پھسا لیا اور بہلا پھسلا کر اسے چوری چھپے خفیہ نکاح کرلیا…
حالانکہ اس کا رشتہ بچپن سے ہی اپنی چاچا زاد سے طے تھا اور کچھ دنوں بعد اُس لڑکے کی شادی تھی
اس لڑکے کے گھر والے سب تیاریاں مکمل کر چکے تھے…. جب سب بڑے بزرگ شادی کی تاریخ طے کرنے بیٹھے…. تو اس نے ہمت جٹا کر اپنی شادی کا راز کھول دیا اور خود کو مارنے کی دھمکی دے کر گھر والوں کو مجبورا رشتہ مانگنے بھیجا…
وہ لوگ بڑے نہ خوش تھے اور تھے بھی امیر لوگ….
مصطفیٰ کے والدین نے اپنی کچھ زمین بیچ ڈالی اور اپنی حیثیت سے بڑھ کر بہت مہنگا جہیز دیا….
فریج اے سی ٹی وی سب کچھ دیا تکہ وہ لوگ خوش ہو جائیں لیکن پھر بھی وہ لوگ ذرا خوش نہ ہوۓ
شادی کو تین مہینے ہوگۓ….. اس کے سسرال والوں کا اس کے ساتھ سلوک اچھا نہیں تھا….. لیکن شوہر بہت ہی محبت کرنے والا تھا وہ شانی کا بہت خیال رکھتا تھا….. شانی خوش و خرم تھی اور ماں بنے والی تھی
اس لڑکے کی سابقہ منگیتر اور چاچا زاد….. والدین کی اکلوتی اولاد ہونے کے باعث سے بہت لاڈلی اور خود پرست تھی…. وہ روتی رہتی اور بضد تھی کہ شادی صرف اپنے چاچا زاد سے کرے گی…
اور شانی کے سسرال والے بھی لالچی لوگ تھے وہ بھی جائیداد کی خاطر اُس لڑکی کو بہو بنانا چاہتے تھے…
انہوں نے شانی سے جان چھڑانے کا فیصلہ کیا…. یہ سوچ کر کہ شانی کے والدین تو غریب لوگ ہیں ہمارے کیا بگاڑ لیں گۓ
اُن فرعون کی اولادوں نے اپنے ہی گھر میں ڈاکہ ڈلوایا
اور خدا کی کرنی دیکھو… مارنے وہ شہناز کو آئے تھے گولی اُن کے اپنے بیٹے کو لگ گئی وہ بیچارہ جوانی میں ہی اس جہاں سے رخصت ہوگیا
نوری کی اماں اپنے آنسو صاف کرنے لگے….
پھر کیا ہوا؟…. نگینہ نے بےچینی سے پوچھا
پھر اُن لوگوں نے اپنی بیٹے کی موت کا بدلہ بھی ہم سے لیا
شانی کو (اُس کی چچا زادمنگیتر) نے زہر دے دیا بچہ تو نہ بچ سگا لیکن شانی بچ گئی اور زہر پورے جسم میں پھیلنے کے باعث کافی عرصہ بیمار رہی…
وہ لوگ تو پکے فرعون کی نسل تھے…. اتنے ظلم ڈھانے کے بعد بھی سارا الزام بیچاری شانی پر لگا دیا اور پرچہ کروا دیا
مصطفیٰ کے والدین کی عدالتوں کے چکروں میں ساری زمین بک گئی اور بہت سارا قرض بھی اٹھا لیا جس کو اترنا نہ ممکن لگ رہا تھا….
میری مرحوم بہن مصطفیٰ کی امی بیچاری بہت محنتی اور نیک عورت تھی لوگوں کے کپڑے سلائی کرتی….
ایک رات سوئی اور پھر نہ جاگی…..دل کا دورہ پڑنے سے اس فانی سے رخصت ہوگئی….. پھر اُن منحوس لوگوں کو کچھ خوف و خدا آیا اور کیس واپس لے لیا
نوری کی اماں سسک کر رونے لگیں
واقعی بہت برا ہوا… نگینہ رسمی الفاظ بولنے لگی…. جبکہ دل سے اسے ذرا بھی افسوس نہ ہوا
…………………………………………………………….
نوری بچوں کو اندر لے کر آؤں ابّا بچوں سے ملنا چاہتے ہیں …. مصطفیٰ نوری سے بولا
نوری نگینہ کی گود سے ساحر کو اٹھانے لگی تو نگینہ غصے سے خود اٹھ کھڑی ہوئی…. ہاتھ مت لگاؤ میرے بیٹے کو….میں خود ساحر کو لے کر جاؤ گی
سب کو نگینہ کا نوری کے ساتھ رویہ دیکھ کر دکھ ہوا….. جو لڑکی کسی کی ایک بات بھی سہنے کی عادی نہ تھی… وہ آج کیا کیا سہہ رہی تھی
سب مصطفیٰ کے ابّا کے کمرے میں پہنچیں
مصطفیٰ کے ابّا نے لیٹے ہی ساحر کو کانپتے ہاتھوں سے باہوں میں تھاما اور پیار کرنے لگے
بس بس ساحر گر جاۓ گا… نگینہ نے جلدی سے ساحر کو اٹھایا اور باہر آگئی
مصطفیٰ…. نگینہ نے کمرے سے باہر جا کر آواز دی تو
مصطفی کمرے سے باہر چلا گیا
بس مل لیا نہ تمہارے ابّا نے ساحر سے؟…اب میں ساحر کو لے کر جا رہی ہوں…. اپنے ابّا کی تدفین کے بعد واپس آجانا… نگینہ نے مصطفیٰ کو حکم دیا اور باہر چل پڑی….. مصطفیٰ بھی اسے باہر تک چھوڑنے گیا
نگینہ ابھی تو میرے ابّا زندہ ہیں اور آپ تدفین کی باتیں کر رہیں ہیں؟؟؟؟…. نگینہ کی تدفین والی بات پر مصطفیٰ کو ٹھیس پہنچی
بائے مصطفیٰ…. نگینہ مصطفیٰ کی بات پر بیزاری ظاہر کرتی وہاں سے روانہ ہو گئی
مصطفیٰ واپس اپنے ابّا کے کمرے میں چلا گیا
تم سب باہر جاؤ مجھے اپنے بیٹے سے اکیلے میں بات کرنی ہے….مصطفیٰ کے ابّا مصطفیٰ کو دیکھتے ہی رونے لگ گۓ
سب باہر چلے گۓ
ابّا آپ کیوں رؤ رہیں ہیں؟… مصطفیٰ بھی رونے لگا اور اپنے ابّا کا کانپتا ہوا ہاتھ تھام لیا
مصطفیٰ تم نے اپنے بیٹے اور بھائی ہونے کا بخوبی فرض ادا کیا ہے… ہمہاری وجہ سے اپنی زندگی تباہ کر ڈالی نگینہ جیسی بد لحاظ عورت کے ہاتھ کی کٹھ پتلی بن گۓ….. ایسا بیٹا قسمت والوں کو ملتا ہے… مصطفیٰ کے ابّا شاکر نظروں سے مصطفیٰ کو دیکھ کر بولے
ابّا مجھے اپنی زندگی سے کوئی شکوہ نہیں ہے…مصطفیٰ اطمینان سے بولا
الله پاک تمہے ہر بلا سے محفوظ رکھے… تم اپنی مرضی کی زندگی جیؤ اور خوش آباد رہو… مصطفیٰ کے ابّا مصطفیٰ کو دعائیں دیتے ہوۓ لمبے لمبے سانس لینے لگے
ابّا آپ کو کیا ہو رہا ہے؟…. مصطفیٰ نے شور ڈال دیا
شور سن کر سب بھاگ کر کمرے میں آئے
مصطفیٰ کے ابّا کی کلمہ پڑھتے سانسیں روک گئیں… اور ان کی روح پرواز کر گئی
ابّا… سب پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے
…………………………………………………………….
میڈم جی آپ نے بلایا؟…. جمشید بابا اسٹڈی روم میں داخل ہوا جہاں نگینہ اُس کی منتظر بیٹھی تھی
ہاں جمشید بابا کہاں تھے تم؟… نگینہ خفا ہو کے بولی
جی وہ مصطفی صاحب کے والد کا جنازہ پڑھنے گیا تھا
اچھا بڑی مصطفیٰ کی چاکری کی جا رہی ہے؟؟… نگینہ طنزیہ بولی
ہم تو کرنا چاہتے ہیں ان کی چاکری…. لیکن وہ موقع ہی نہیں دیتے کیونکہ انہوں نے کبھی ہمیں ملازم نہیں سمجھا ہمیشہ بیٹے جیسا احترام کرتے ہیں میرا….جمشید بابا کے الفاظوں سے مصطفیٰ کے لئے محبت اور عزت جھلک رہی تھی
اچھا سنو…. مجھے تم سے بہت ضروری کام ہے…
جی آپ حکم کریں
اُس لڑکی نوری کا بھی وہی حال کرنا ہے جو اس سحر کا کیا تھا…… نگینہ کا لہجہ کسی بدمعاش غنڈے جیسا تھا
جی؟؟؟؟؟؟؟؟؟… جمشید بابا کے چہرے کا رنگ اڑ گیا
ہاں….جانتے ہو میں مصطفی کے گھر گئی تھی اُس کے گھر جانا تو میرا لئے بہت مفید ثابت ہوا… نگینہ مسکرائی
وہ کیسے؟
اُس کی بہن کی دکھی داستان سن کر مجھے ایک کمال کا آئیڈیا ملا ہے…. جسے اُس نوری سے جان چروائی جا سکتی ہے
میرا پلان سنو… ہمہارے گھر ایک گینگ آئے گا ساحر کو اغوا کرنے اور نوری کو گولی مار کے چلا جاۓ گا…. اور ہاں گارڈز کو سب سے پہلے پیسے دے کر خرید لینا….
نہیں میڈم جی یہ غلط ہے ایسا مت کریں اور آپ بھی ایسا کرنے سے پھنس سکتی ہیں… جمشید بابا نگینہ کو سمجھنے لگے
میں بالکل بھی نہیں پھنسو گی کیونکہ مصطفی جانتا ہے کہ میری ساحر میں جان بستی ہے میں ایسا کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتی…. پھسے گا تو کوئی اور…نگینہ کے چہرے پر شیطانی مسکراہٹ تھی
کون؟؟؟؟؟؟…جمشید بابا نے پوچھا
سلیم… مصطفیٰ اُس کو نہیں چھوڑے گا اور میرا اسے بھی بدلہ پورا ہو جاۓ گا
نہیں میں آپ کا اس کام میں ساتھ نہیں دوں گا…جمشید بابا نے دو ٹوک جواب دیا
یہ سنتے ہی نگینہ کے چہرے پر بارہ بج گۓ
جمشید بابا یہ تم کیا کہہ رہے ہو؟؟؟؟؟؟ میری مما کے سارے احسان بھول چکے ہوں؟؟؟؟….. میری مرحوم ماں کے آخری الفاظ تھے کہ میں نہیں رہو تو کیا ہوا؟؟ جمشید تو ہمیشہ تمہارے ساتھ ہے نا….آج جب مجھے تمہاری ضرورت ہے تو تم ایسا کر رہے ہوں میرے ساتھ… نگینہ مکاری سے رونے لگی
میڈم جی مصطفیٰ صاحب آپ کے ہاتھ میں ہیں…. گھر میں بھی آپ کی حکمرانی ہے…. بیٹا بھی آپ کا ہے پھر آخر آپ کو کس بات کا خوف ہے؟؟؟؟؟…. جمشید بابا نگینہ کو حقیقت سے آشنا کرنے لگا
جمشید بابا میں بڑے خوف میں مبتلا ہوں…. اس لئے میں ایسا بڑا قدم اٹھانے پر مجبور ہوں…. نگینہ جمشید بابا کو باتوں کے جال میں پھسانے لگی
کیسا خوف؟؟؟
وہ لڑکی جتنی سیدھی اور معصوم نظر آتی ہے نہ…. اتنی ہے نہیں…. چالاک لومڑی ہے وہ لڑکی
جانتے ہوں دو بار وہ مجھے مارنے کی کوشش کر چکی ہے… ایک بار میرے جوس میں زہر ڈال دیا اور دوسری بار میرے منہ پر تکیہ رکھ کر میرا دم نکالنے کی کوشش کرنے لگی… یہ تو میری خوش قسمتی تھی کہ میں دونوں بار بچ گئی…. اب وہ پھر سے مجھے مارنے کی کوشش کرے گی اور ہو سکتا ہے اس بار وہ کامیاب بھی ہو جائے
آپ نے یہ بات مصطفیٰ کو کیوں نہیں بتائی؟؟؟؟…..جمشید بابا کو شدید حیرانی ہوئی
مصطفیٰ وہ تو اُس لڑکی کی محبت میں پوری طرح اندھا ہو چکا ہے…. میری تو کسی بھی بات پر اعتبار ہی نہیں کرتا….. نگینہ جمشید بابا کے سامنے مظلوم بننے لگی
نگینہ کی باتوں سے جمشید بابا کو دهچکا لگا
نگینہ جمشید بابا کے چہرے کے تاثرات دیکھ کر سمجھ گئی کہ اب یہ میری مدد ضرور کرے گا
کوئی نہیں ہے میرا اس دنیا میں… مما آپ کیوں چلی گئیں مجھے چھوڑ کر؟؟؟؟… نگینہ مسکنیت طاری کرتے ہوئے آنکھوں سے ٹسوے بہانے لگی
اگر وہ لڑکی ایسی ہے تو میں آپ کی مدد کروں گا….جمشید بابا نے حامی تو بھر دی لیکن اُس کا دل ابھی بھی مطمئن نہیں تھا
تھنک یو جمشید بابا… مجھے تم سے یہی امید تھی….. نگینہ شاکر نظروں سے جمشید بابا کو دیکھنے لگی
جمشید بابا خاموشی سے وہاں سے چلا گیا
…………………………………………………………….
ایک ہفتے بعد مصطفیٰ اور نوری واپس لوٹے…. شانی بھی اُس کے ساتھ تھی
بس اس کی کمی باقی تھی…..شانی کو دیکھتے ہی نگینہ منہ میں بڑبڑانے لگی
السلام علیکم… نگینہ کیسی ہیں؟… مصطفیٰ نے نگینہ سے بولا
میں ٹھیک…. مجھے تو لگا تم پہلی برسی کر کے واپس لوٹوں گۓ… نگینہ طنزیہ بولی
السلام علیکم…. شانی نے گھبراتے ہوئے نگینہ کو سلام کیا
وعلیکم اسلام…. ویلکم شہناز…. نگینہ نے مصطفیٰ کے سامنے شانی سے خوش دلی سے بات کی
شکریہ بھابھی… نگینہ کو مسکراتے دیکھ کر شانی کو کچھ اطمینان ہوا
اب خوش؟….مصطفیٰ شانی سے بولا
شانی نے مسکرا کر سر اثبات میں ہلایا
نگینہ بہت مشکل سے ان کو راضی کر کے یہاں لائے ہیں…. ڈر رہی تھیں کہ آپ کا درعمل کیا ہوگا؟
میرا درعمل؟… میں میں نے بھلا کیا کہنا تھا…. میں تو کسی کو کچھ بھی نہیں کہتی… نگینہ خود کو مہان بنانے لگی
نگینہ کی باتیں سن کر نوری طنزیہ ہنسی
لڑکی تمہے کیوں اتنی ہنسی آرہی ہے؟… نگینہ نے غصے سے نوری سے پوچھا جبکہ وہ بخوبی جانتی تھی کہ نوری اُس کی باتوں پر ہنس رہی تھی
میں ساحر سے مل کر آتا ہوں… مصطفیٰ نگینہ کو نوری پر چلاتے ہوئے نہیں دیکھنا چاہتا تھا اسلئے وہاں سے چلا گیا
بتاؤ کیوں ہنس رہی تھی؟ اوقات میں تو رہنا سیکھا ہی نہیں ہے نہ تم نے؟… نگینہ نوری پر برہم ہوئی
شانی کو نگینہ کا مزاج شروع سے ہی سخت نہ پسند تھا…. وہ یہاں مصطفیٰ اور نوری کے بہت اصرار پر آئی تھی….
ویسے شہناز جانتی ہوں یہ تمہے اپنے ساتھ کیوں لے کر آئی ہے؟… تکہ تم اس کی بیٹی پالو اور یہ آواری پھیرتی رہے… نگینہ شانی کو بھڑکانے لگی
اس کی بیٹی میرا خون ہے میں اس کی پھوپھو ہوں اور پھوپھو تو شوق سے بچے پالتے ہیں…. شانی نے نگینہ کو کرارا جواب دیا
نگینہ شانی کی بات سن کر بہت تپ اٹھی
نوری نگینہ کے چہرے کے تاثرات دیکھ کر اپنی ہنسی دباتی ہوئے شانی کا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنے کمرے میں لے آئی
…………………………………………………………….
کچھ دن بعد نگینہ نے ایک گینگ سے رابطہ کیا اور بھاری رقم دے کر نوری کو مارنے کی سپاری دی
منصوبے کے مطابق سرد رات میں 3:35 پر سات لوگ گارڈز کو ان کی مرضی سے بیہوش کر کے اندر داخل ہوۓ
نگینہ نے ساحر کو جگایا تکہ اس کی رونے کی آوازیں سن کر مصطفیٰ اور نوری جاگ جائیں
ساحر کی رونے کی آوزیں اور نگینہ کے چیخنے چلانے کی آوازیں سن کر نوری مصطفیٰ اور شانی کمرے سے باہر نکل آئے
نوری ساحر کو چوروں کی گرفت میں دیکھ کر تڑپ اٹھی….. وہ دوڑی ہوئی ساحر کے قریب پہنچی اور اسے چوروں کی گرفت سے آزاد کروانے لگیں
اُس آدمی نے نوری کو زور سے دھکا دیا
چھوڑو میرے بیٹے کو… نوری چیخی
کون ہو تم لوگ میرے بیٹے کو کیوں اٹھا رکھا ہے؟؟؟؟؟… مصطفیٰ دھاڑا
ہم جو بھی ہیں بہت جلد پتا چل جاۓ گا… گینگ کا ایک آدمی بولا
مصطفیٰ ساحر کے قریب جانے لگا تو نگینہ نے اُس کی بازو مضبوطی سے پکڑ لی اور رونا شروع کردیا مصطفی میرا بیٹا… بچاؤ میرے بیٹے کو
نوری نے دوبارہ ساحر کو چوروں کی گرفت سے آزاد کرنے کی کوشش کی تو ایک آدمی نے اپنی بندوق کا نشانہ نوری کی جانب کیا
نوری کو لگا جیسے وہ بس اُس کو ڈرا رہا ہے اُس نے اپنی کوشش جاری رکھی
ایک آدمی نے منصوبے کے مطابق نوری پر گولی چلا دی
جبکہ شانی اُس چور کے ارادے سمجھ گئی کیونکہ وہ پہلے بھی اس وقت سے گزر چکی تھی ڈور کر نوری کے سامنے آگئی اور ایک آدمی نے اسی پل گولی چلا دی