📱 Download the mobile app free
Home > Ishq Diya Zanjeera by Ayesha Mughal NovelM80055 > Ishq Diya Zanjeera (Episode 09)
[favorite_button post_id="15680"]
47540 Views
Bookmark
On-going

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Diya Zanjeera (Episode 09)

Ishq Diya Zanjeera by Ayesha Mughal

★★★
حازق کمرے کا ستیاناس کرنے پر تلا ہوا تھا شازر سکون سے بیٹھا اسے دیکھ رہا تھا
” اب شادر کی جان کچھ بتائے گا کیا ہوا ہے یا اپنے معصوم سے بھائی کے کمرے کا ستیا ناس ہی کرتا رہے گا “
حازق نے ارد گرد نظر دوڑائی اسے احساس ہوا وہ شاذر کے روم میں تھا شاذر اپنے روم کی خستہ حالت دیکھ رہا تھا
” …!دیکھ تو نے میرے سارے پرفیوم توڑ ڈالے ہیں غصہ کم ہو گیا ہے تو بتا کیا ہوا ہے اگر ابھی تک غصہ کم نہیں ہوا تو میںرا سر ہی پھوڑنے والا بچا ہے وہی پھاڑ لے…!”
حازق کے لبوں کے ساتھ اس کی گرے آنکھوں میں بھی مسکراہٹ پھیل گئی
” حازق کیا ہے اگر تیری محبوبہ نے تجھے یوں دیکھ لیا تو تجھے چھوڑ گئے بھاگ ہی جائے گی جتنا تو غصہ کرتا ہے…!”
حازق کو ایک دم پرہیان کا خیال آنے لگا اس نے مسکراتے ہوئے اپنا ہاتھ دیکھا
” شاذر یار تجھے پتہ ہے اج پہلی دفعہ میں نے پیار سے اس کا ہاتھ پکڑا ہے..!”
وہ ایک دم سے مسکرانے لگا شاذر اس کا پاگل پن دیکھ کر نفی میں سر ہلانے لگا
” میرے بچے تو پاگل ہو گیا ہے تیرا کوئی علاج نہیں “
حازق ہنستا ہوا صوفے پر گرنے والے انداز میں بیٹھ کر بیک سے ٹیک لگا لی
“بھائی پاگل ہی تو ہوں اور عشق میں پاگل لوگوں کا کوئی علاج نہیں ہوتا جانتے ہو اج اس نے اپنی محبت کا اظہار کیا ہے وہ مجھ سے سچی محبت کرتی ہے اس کی باتیں قسم سے کیا بتاؤں باتیں وہ اتنی پیاری کرتی ہے بس میرا دل کرتا ہے سنتا رہوں اسے باہوں میں بھر لوں وہ مجھ سے باتیں کرتی رہی اس کی باتوں میں اس کے لہجے کی مٹھاس اور اس کے شیریں لب۔۔!”
وہ انکھیں بند کر کے بولا شاذر نے اس کے سر پر تھپڑ رسید کیا
” زیادہ رومینٹک مت بنؤ اگر اتنا ہی اچھا موڈ تھا تو میرے کمرے کا کیوں حال بگاڑا”
وہ اسے گھوڑتا ہوا بولا
“سوری یار تو نہ یہ بات نہیں چھیڑنی کہ میں غصے میں کیوں تھا لگتا ہے شاویز بھائی کو یہ بات بھول گئی ہے میں کسی اور کو پسند کرتا ہوں “
وہ مسکراتا ہوا بولا
“حازق شاویز بھائی خود بابا کو منائیں گے کیونکہ میں نے شاویز بھائی کو منا لیا ہے”
وہ ٹانگ پر ٹانگ رکھتا ہوا بولا
” کیا یار سچ کہہ رہے ہو وہ پاگلوں کی طرح خوش ہوتا ہوا بولا شازر نے اثبات میں سر ہلا دیا
★★★
“چھوڑوں گا نہیں تمہیں حازق تم نے چودہری طلال احمد سے پنگا لیا ہے کیا سمجھتے ہو خود کو بڑے ہمدرد بن رہے ہو غریبوں کے مجھے ایک پل نہیں لگے گا تمہیں اس دنیا سے رخصت کرنے میں یا تم طلال احمد کے ساتھ ہو جاؤ گے یا پھر جان سے جاؤں گے…!”
وہ شیطانی سے ہنسا
باس اسے شخص کو کل سے پیار سے منا رہے ہیں اپنی باقی کی زمین بھی ہمارے نام کر دے ہم نے وہاں پر اپنا فارم ہاؤس بنانا ہے پر یہ مان ہی نہیں رہا..!”
ایک لڑکے نے ایک بزرگ ادمی کو طلال کے پاؤں میں پھینکا
“صاحب جی مجھ پر یہ ظلم مت کریں پھر میں کہاں جاؤں گا پھر..!”
” زمین ہمارے نام کر دی تو اسی دنیا میں رہتی زندگی گزار لینا اگر جگہ ہمارے نام نہیں کرنی تو !”
طلال نے پسٹل اس کی کنپٹی پر رکھی
” آگے بابا جی اپ خود سمجھدار ہیں” وہ گردن ٹیڑھی کر کے بولا سب کی
“ایسا مت کریں میری روزی روٹی کا اخری ذریعہ وہ زمین ہی تو ہے”
اس بزرگ کے آنسو گرنے لگے
“ایک بات یاد رکھنا اس گاؤں کے ایک ایک آدمی کو کتے کی موت دوں گا” وہ خباثت سے ہنسا
★★★
،”نبیہا بیٹا میں تھک گیا ہوں اور مجھے مت بھگاؤ”
وہ جھولے کو پکڑ کر لمبے لمبے سانس لیتا ہوا بولا
٫” صامی چاچو مجھے پکڑے نا اپ نے خود ہی تو کہا تھا میں پکڑ لوں گا “
وہ ہنستی ہوئی بولی
“نہیں بھئی میں ہار گیا تم جیت گئی”
وہ مسکراتا ہوا بولا وہ بھاگ کر اس کے پاس آئی اور اسے لپٹ گئی ٫”صامی چاچو لو یو مجھے پتہ ہے آپ جان بوجھ کر ہار جاتے ہیں تاکہ میں اداس نہ ہوں آپ مجھ سے بہت زیادہ پیار کرتے ہیں “
اس نے مسکراتے ہوئے اسے اٹھا کر اس کی گال پر بوسہ دیا
” چاچو کی جان ہو تم
” اچھا پھر آپ چاچی کو کیوں کہتے ہیں میری جان”
وہ اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرتی ہوئی بولی
” پاپا بھی ماما کو میری جان بولتے تھے کیا “
وہ معصومیت سے بولی
” تم کل مجھے کہہ رہی تھی آئس کریم کھانے جانا ہے آج چلیں”
وہ بات بدل کر بولا
” اپ پہلے پیار سے بولیں پھر میں چلوں گی”
اس کے گلے میں بازو ڈال کر بولی (”بھیا پلیز پیار سے ایک بار سر پر ہاتھ رکھ دیں میں خوشی خوشی چلی جاؤں گی “)
” چاچو صامی کیا ہوا ہے”
اسے اپنے خیالوں میں گم دیکھ کر بولی
” کچھ نہیں ہوا٫”
” تمہارے ہوم ورک کا ٹائم ہو گیا ہے” وہ لان میں داخل ہوتی ہوئی بولی “
“بھابی میں کروا دوں گا ہوم ورک ابھی ہم باہر جا رہے ہیں نبیہا اور میں”
وہ مسکراتا ہوا بولا
” اچھا صامی پلیز جلدی لے آنا “
” چاچو کو بالکل تنگ نہیں کرنا اور کوئی ضد نہیں کرنی “
“بھابھی کیوں پریشان ہوتی ہیں کچھ نہیں کرے گی “
وہ اسے لے کر چلا گیا
خنسہ لان میں داخل ہو کر بولی ” “ویسے بھابھی برا مت مانا اپ کی بھی کوئی زندگی نہیں نہ ہوئی شوہر کومہ میں ہے بیٹی باپ کے پیار کو ترستی ہے اور میرے شوہر کو ہر وقت آپ کی بیٹی کی پڑی ہوتی ہے خود کو تو جیسے اولاد چاہیے ہی نہیں میری طرف تو کبھی پیار سے بھی نہیں دیکھا اولاد تو پھر دور کی بات ہے ویسے اپ کا شوہر خدا کرے جلدی ٹھیک ہو جائے یا مر جائے کسی سائیڈ تو لگے نا “
اس کی چلتی زبان کو ایک دم سے بریک لگا جب اس کے منہ پہ تھپڑ لگا اس نے نگاہیں اٹھا کر دیکھا خبردار جو اج کے بعد بھابھی سے اس طرح بات کی اگر تمہیں میری بھابھی سے اتنا ہی مسئلہ ہے تو تم جا سکتی ہو “
صامی غصے میں چلا کر بولا
” بہت پیاری ہے نا اپنی بھابی اور بھتیجی تو پھر میں چلی جاتی ہوں خنسہ غصے میں بولی صامی پلیز ریلیکس ہو جاؤ صامی تم خنسہ کو ٹائم دیا کرو وائف ہے تمہاری وہ یہ کہتے ہوئے چلی گئی وہ بھی خنسہ کو گھورتا ہوا وہاں سے چلا گیا
★★★
وہ موبائل کان سے لگائے سیڑھیوں سے اتر رہا تھا
” بھیا مجھے شاپنگ پہ لے جانا ہے”
سامنے سے پرہیان ا گئی سدید نے گھڑی سے ٹائم دیکھا
” میرا بچہ میں ابھی ضروری کام سے جا رہا ہوں واپس ا کر لے جاتا ہوں”
وہ یہ کہہ کر آگے چلا گیا
” شاپنگ پہ جانا ہے سدید کی گڑیا کو “
سیڑھیوں سے اترتے ہوئے صمید نے کہا
وہ مجھے شاپنگ پر لے جائیں گے”
وہ سیڑھیوں پر بیٹھ گئی
صمید اس کے ساتھ بیٹھ گیا
“؛ اگر میں شاپنگ پہ لے جاؤں تو”
وہ انگلی پہ چابی گھماتا ہوا بولا ” “سچ میں آپ مجھے لے جائیں گے وہ مسکراتی ہوئی بولی
” کیوں پہلے میں نے کبھی تم سے مذاق کیا ہے “
” اپ نے پہلے تو کبھی مجھے بلایا بھی نہیں اج مجھے شاپنگ پہ لے جانے کی افر کر رہے ہیں٫”
اس نے مسکراتے ہوئے کہا
“ہاں انسان کا کبھی کبھی موڈ بدل بھی جاتا ہے”
” مجھے تو لگتا ہے اپ کا موڈ زندگی میں پہلی دفعہ بدلہ ہے”
پرہیان نے مسکراتے ہوئے کہا صمید بھی اس بات پر مسکرا دیا
” اچھا اب شاپنگ پر چلنا ہے”
” ہاں کیوں نہیں”
پرہیان سیڑیوں سے اترتی ہوئی بولی صمید بھی اٹھ گیا وہ ابھی باہر کی طرف جا ہی رہے تھے کہ سامنے سے اسمائل شاہ ا گئے
“کدھر جا رہے ہو تم “
انہوں نے رعب دار اواز میں پوچھا ” بابا پریہان کو میں شاپنگ پہ لے کر جا رہا تھا ” وہ نرمی سے بولا
” اور کام ختم ہو گئے ہیں دنیا سے جو تم اسے شاپنگ پر لے جاؤ گے گاؤں کے کام ختم کرو”؛
وہ غصے میں کہتے ہوئے اوپر چلے گئے وہ اسے وہیں چھوڑے چلا گیا اتنے میں ربانہ بیگم ائی
‘ تم کیوں ایسے گھر کے درمیان میں کھڑی ہو “
ربانہ بیگم نے اس سے پوچھا وہ روتی ہوئی ان کے سینے سے لگ گئی مما مجھ سے آپ اور بابا کیوں نہیں پیار کرتے اب کی بیٹی ہو نا بیٹی ہونا کوئی گناہ تو نہیں ہے اپ کے ماما بابا بھی اپ کے ساتھ ایسے ہی کرتے تھے کیا پرہیان نے روتے ہوئے پوچھا مگر اسے خود سے الگ کر کے چلی گئی وہ روتی ہوئی اٹھی اور انہیں جاتا ہوا دیکھنے لگی