📱 Download the mobile app free
Home > Dosti Ke Rang By Aqsa Fatima NovelM80066 > Dosti Ke Rang (Episode - 3)
[favorite_button post_id="16160"]
42983 Views
Bookmark
On-going

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dosti Ke Rang (Episode - 3)

Dosti Ke Rang By Aqsa Fatima

اس نے جیسے ہی تیل کی اسمیل محسوس کی اسے سمجھ آگیا اس میں انڈاملایا گیا تھا اور انڈے اسے سخت چیڑ تھی وہ سمجھ گیا تھا یہ کام کس کا ہے وہ فوراً بال دھونے کے لیےواشروم گیا لیکن وہاں پر شیمپو موجود ہی نہيں تھا

وہ غصے میں کھولتا ہوا باہر نکلا اسے پتہ تھا یہ کام کس کا ہے وہ سیدھا ایشل اور ماہین کے کمرے کی طرف گیا ایشل کہا ہے ماہین وہاں صرف ماہین ہی تھی

کیا ہوا بھاٸ اور یہ آپ کے بالوں کو کیا ہوا اس کے بال اس وقت عجیب سے ہورہے تھے

یہ تمہاری ایشل بی بی کا کارنامہ ہے

اس نے ایک ایک لفظ کو چباتے ہوۓ کہا

کہا ہے وہ

بھاٸ آج وہ دادی کے پاس سورہی ہے

چلاک لومڑی دادی کے سامنے تو وہ کچھ بول نہیں سکتا تھا اس لیے غصہ پی گیا

اچھا شیمپو دو مجھے

جی بھاٸ وہ فوراً واشروم گٸ یہ لیں

یہ یہاں پر تھا آپ کا شیمپو

ہمممم وہ فوراً چلا گیا کیوں کے اسے سخت چیڑ ہورہی تھی اس اسمیل سے

٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠

شام میں اس نے رابیل کو چھت پر بلایا تھا ایک ہی گھر میں رہتے تھے وہ لوگ اس نے اپنی چھوٹی بہن آرزو کے ذریعے اُسے بلوایا تھا

اس کے کہنے پر تو اس نے آنا نہیں تھا

رابیل جب چھت پر آٸ وہاں معاذ کو دیکھ کر سمجھ گٸ

تم نے بلوایا ہے مجھے ہاں معاذ نے اس کی بات کا جواب دیا

مجھے کوٸ بات نہیں کرنی تم سے

مجھے تو کرنی ہے نہ

ایک بار سن تو لو میری بات

کیا ہے جلدی سے بولو وہ ابھی بھی خفا تھی اس سے

ایسےنہیں یہاں بیٹھو اس نے کرسی کی طرف اشارہ کیا جہاں کیک اور غبارے تھے وہ اسے گھورتےہوۓ بیٹھ گٸ

ہاں تو بات یہ ہے میری کچرا رانی

اسنے شرارت سے اسے دیکھتے ہوۓ کہا

میں جارہی ہوں اچھا اچھا سوری صرف رانی اب ٹھیک ہے

وہ واپس بیٹھ گٸ ہاں سب سے پہلے سوری پکا مجھے یاد تھا لیکن اینڈ ٹائم پر ذہن سے نکل گیا تھا

تمہیں پتہ جب میری دوستوں نے مجھ سے پوچھا تمہیں سب سے پہلے کس نے وش کیا تب میں تمہارا نام نہیں لے سکی اس نے خفگی سےاسے دیکھا

معاذ اس کی بات سن کر مسکرایا

اچھا میری بات سنو سب سے پہلے تو سوری یہ لو کان بھی پکڑ لیے وہ اس سے کان پکڑ کر سوری کرنے لگا

ایسے نہیں اٹھک بیٹھک کرو پہلے

وہ بھی رابیل تھی

یار وہ نہیں ہوگی نہ ایسےہی معاف کردو اپنے اکلوتے ڈاکٹر کو

ڈاکٹر تو بہت سارے ہوتے ہیں

ہاں لیکن تمہارا ڈاکٹر تو صرف میں ہوں نہ

اچھا اس کی بات سن کر وہ مسکراٸ تھی

مطلب تم نے معاف کیا

یہ تو نہیں کہا میں نے

مجھے پتہ چل گیا کہ تم مان گٸ ہو کیسے بس ہے ایک جادو اب چلو کیک کاٹو اس نے کیک اس کی طرف بڑھایا یہ کیا وہ چھری کی جگہ اسے چمچ دےرہا تھا

وہ جلدی جلدی میں یہی ہاتھ لگا اب تم۔اسی سے گزارا کر لو

تم نیہں بدلنے والے اسنے ہنستے ہوۓ کیک کاٹا اور یہ غبارے بھی تمہارے لیے

ہممم میں جانتا ہوں میں بہت سی چیزوں میں بلکل اناڑی ہوں لیکن میں اتنا جانتا ہوں

عورت کے لیے مہبت سے پہلے عزت ہوتی ہے اور میرے نزدیک وہ ہر کردار میں میں احترام و عزت کے لیے ہی بنی ہے میں ہمیشہ تمہیں عزت دونگا

اور تمہاری حفاظت کرونگا چاند تارے توڑنے کے وعدے نہیں کرونگالیکن پوری کوشش کرونگا کہ تمہاری زندگی چاند تاروں سی روشن ہو وہ کتنا اچھا بولتا تھاسے آج پتہ چلا تھا وہ اسےہی دیکھے جارہی تھی

وہ اپنی بات کہنےکے بعد اسے دیکھنے لگا کیا ہوا

اس کے بولنے پر وہ ہوش میں آٸ کچھ تمہیں ڈاکٹر نہں راٸٹر ہونا چاہیے تھا

ہاہاہا اچھا میں جارہی ہں امی کو کا م۔تھا تاٸ امی سے ہمممم چلو میں بھی چلتا ہوں آج ارسل کی طرف اسٹے کرنا ہے ساتھ ہی پڑھنا بھی ہے

٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠اُس نے بہت ہی تیزی کےساتھ دلاور کے مال کو ضبط کیاتھا اوراس کے ایک آدمی کو بھی پکڑ لیا تھا

کیپٹن آپ کے کہنے کے مطابق اُسے اندر بند کردیا گیا ہے

فہیم نے اُسے اطلاع دی ہمم ٹھیک ہے اور کچھ پتہ چلا وہ اس کے ساتھ بات کرتے ہوۓ اندر آیا نہیں کیپٹن بہت ہی ڈھیٹ انسان ہے بہت مارا لیکن کچھ نہیں بولا ہے

ہممم وہ اندر کرسی پر بیٹھا اور سامنے اس شخص کو دیکھنے لگا اسکی آنکھیں اس وقت سرخ ہورہی تھیں ایک عجيب سی چمک تھی

جو سامنے والے کو اپنے سحر میں جکڑ لیتی تھیں

اب تم ہمیں ساری بات بتا رہے ہو یا میں اپنے طریقے سے بات کروں

اس کی بات سن کر اس شخص نے اس کی طرف دیکھا چاہیے کتنا بھی مار لو میں کچھ بھی نہیں بتانے والا

ہمممم تو یہ بات ہے پھر ٹھیک ہے فہیم اسے الٹا لٹکا کر پانی کے ٹب میں اس کا منہ اتنی دیر تک ڈالو جب تک اس کی عقل ٹھکانے نہ آجاۓ

وہ جانتا تھاکس سےکیسے بات نکلوانی ہے جی کیپٹن وہ کہتےہی باہر نکل گیا

اُسے کیسے بھی کرکہ جلد سے جلد اس کام کو سرانجام دینا تھا اس سےپہلے اس کےاس کام کی خبر کسی کو ہو

٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠

وہ چاروں ارسل کےروم میں ہی ایک ساتھ پڑھ رہے تھے ایشل کے کام جواب ارسل نے بعد میں دینے کا سوچا تھا کل ان سب کا بہت امپورٹنٹ ٹیسٹ تھا اوروہ ابھی صرف اپنی پڑھاٸ پر فوکس رکھنا چاہتا تھا

یار مجھے بھوک لگ رہی ہے نوفل بھوک کچا تھا

محسوس تو مجھے بھی ہورہی ہے عمر بھی اب پڑھ کر تھک چکا تھا

رات کے دو بجے کیا کھاینگے

امی بھی سوگیں ہونگی

ارسل نے دونوں کو دیکھ کر کہاہم خودہی کچھ کرتے ہیں عمر اور نوفل کے ساتھ ارسل اور معاذ بھی اٹھ گۓ کیوں کےوہ لوگ کب سے پڑھ رہے تھے تھوڑا ریلیکس ہوجاتے وہ سب کچن میں آگیے کیا کریں

چاۓ پڑھاٹے بنالیتے ہیں یہ نایاب مشورہ عمر کے

سوا کون دے سکتا تھا عمر تو کبھی سیدھی بات نہ بولنا نوفل نے اسے گھورا وہ ڈھیٹو کی طرح ہسنے لگا

میں تو اس لیے کہہ رہاتھا کہ ابھی سیکھ لیتے ہیں بعد میں بنا کر بیگم کو اپریس کرینگے نہ وہ آنکھ مارتے ہوۓ بولا تو غلطی سے ڈاکٹر بن رہا ہے

تجھے مجنوں ہونا چاہیے تھا وہ بھی اس زمانے کا معاذ نے جل کر کہا

ہاہاہا مجنوں نہیں مجھے بس اپنی بیوی کا شوہر بننا ہے سامنے بھی عمر تھا تم لوگ باتیں کرتے رہو اور رات نے ختم ہو جانا ہے نوفل نے جل کر کہا

سنو نوڈلز بنا لیتے ہیں ارسل نے مشورہ دیا واہ بھاٸ نوفل نے فوراً سے کہا

میں پانی گرم رکھتا ہوں عمر نے کہا اورارصل تو اندر سے پیکٹ نال باقی تم دونوں پیالے اور چمچیاں نکالو عمر نے جلدی سے کام بانٹیں

عمر پانی گرم کر رہا تھا

عمررررررررر اچانک ارصل کی چینخ سناٸ دی اس کی آواز کے ساتھ عمر کے ہاتھ سے پانی گرا اوران دونوں کے ہاتھ سے پیالے اور چمچ گر گۓ اور ارصل اوپر سلیب پرچڑھ گیاتھا اور اسی طرف دیکھ رہا تھا

آوازیں سن کر سب گھر والے بھی جمع ہوگۓ تھے خیریت کیا ہوا قادر صاحب ارصل کے ابو نے کہا ارصل تم چلاۓ کیوں امنیہ بیگم بھی حیران تھں جبکہ ایشل اندر آٸ کچن کی حالت دیکھنے والی تھی چپ کیوں ہو تم لوگ بولو بھی

دادی نے آواز لگاٸ وہ دادی عمر نے بات شروع کی ہم لوگ نوڈلز بنا رہے تھے کہ اچانک ہی ارصل چلایا تھا وہ لوگ شرمندہ ہورہے تھے ان کی وجہ سے سب کی نیند خراب ہوگٸ تھی ارصل نیچے تو اترو اوپر کیوں چڑھے ہو امینہ بیگم نے اس سے کہا

وہ امی وہاں پر وہ سمجھ گٸ وہ کچھ بولتا اس سے پہلے ایشل کی آواز آٸ سب اس کی طرف متوجہ ہوۓ اس نے چپل اٹھاٸ ہاتھ میں اور لگایا نشانہ اور ڈھرام کر کے چپکلی نیچے گری تھی یہ ہے وجہ

توبہ ہے ارصل ایک چپکلی کو دیکھ کر چینخے تھے عمر نے ارصل کی طرف دیکھ دیکھا وہ حیران سا کچن سلیب سے نیچے اترا اس نے عمر کی بات کا کوٸ جواب نہیں دیا تم نے مار دیا تمہیں ڈر نہیں لگتا

وہ اسکی بات سن کر مسکراٸ تمیں صرف ایشل سے ڈرنا ہے اسنے آہستے سے کہا چلو سب سونے اب قادر صاحب نے سب کو بھیجا اور بچوں تم لوگ بھی سوجاٶ وہ فطرتاً ٹھنڈے مزاج کےتھے

سب سونے چلے گۓ ایشل اور ماہین بھی جانے لگیں کہ بھاٸ آپ لوگ اندر جاٶ میں بنا کر بھیجتی ہوں اس سے ان کے اترے ہوۓ منہ نہیں دیکھے گۓ

سچی موٹو تم جیو ہزاروں سال نوفل نے بڑے مزےسے ماہین کو کہا

نوفل تم ہو موٹے تم ڈاکٹر بن جاٶ تمہاری توند باہر آجاۓ سیٹ میں پھنس جاٶ تم وہ بھی اُسے سنانے لگی اس کی دہاٸ سن کر سب ہسنے لگے وہ لوگ ایسے ہی تھے اپنے حال میں مست مگن سے اب زندگی کیا موڑ لے یہ کون جانے

٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠

ارے لڑکی کہاں گھسی چلی آرہی ہو زبیدہ بیگم نےاپنے چشمے سے اسے گھورا وہ بلکل ان کے سامنے آکر کر کھڑی ہو گٸ