The Line Breaker NovelM80029

The Line Breaker NovelM80029 Last updated: 1 December 2025

[favorite_button post_id="51"]
59,616 Views
Bookmark
On-going

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

یہ کہانی ہے یوشع نامی ایک ذہین مگر نظر انداز کیے گئے بچے کی، جس کے ماں باپ، ایک کرسچن ماں اور مسلم باپ، اپنی اپنی دنیا میں گم رہتے ہیں۔ وہ اپنے کیریئر میں اتنے مصروف ہوتے ہیں کہ بچے کی دینی، اخلاقی اور جذباتی تربیت کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیتے ہیں۔ نتیجتاً، یوشع نہ کسی دین کا پیروکار بنتا ہے، نہ کسی اصول کو مانتا ہے۔ کم عمری میں ہی باہر کے آزاد معاشرے میں پلنے بڑھنے کے باعث وہ غلط اور صحیح کا فرق بھول جاتا ہے۔

ایک المناک واقعے میں وہ اپنی چھ سالہ کزن کے ساتھ ایک انتہائی ناپسندیدہ حرکت کی کوشش کرتا ہے، جو اُس کے لیے ایک "عام" بات بن چکی ہوتی ہے۔ اس پر اُس کے والد کی سخت مار اور ناراضگی آتی ہے، مگر وہ پھر بھی نہیں سمجھتا کہ اس نے کیا غلط کیا۔ والدین اُس سے تنگ آ کر اُسے واپس بیرونِ ملک بھیج دیتے ہیں، جہاں وہ مکمل طور پر دین اور خدا کا انکار کر دیتا ہے۔

یوشع شہرت، دولت اور کامیابی کی بلند چوٹیوں تک پہنچتا ہے۔ مگر یہ کامیابی اُسے اور زیادہ غرور، بے حسی اور ظلم کی راہ پر ڈال دیتی ہے، یہاں تک کہ وہ اپنی بیوی کو بھی ذلیل کرتا ہے۔ لیکن اُس کی بیوی کی ایک آخری بات، ایک نوٹ، اُس کی زندگی میں زوال کا آغاز بن جاتی ہے۔

رفتہ رفتہ وہ سب کچھ کھو دیتا ہے—عزت، مال، رشتے، سکون۔ اسی بکھراؤ میں اُسے رب یاد آتا ہے۔ وہ جو کل تک خدا کا منکر تھا، آج نادم، شرمندہ اور سجدہ ریز ہے۔ وہ توبہ کرتا ہے، دین کی طرف رجوع کرتا ہے اور ایک دن حافظِ قرآن بن کر ایک روشن مثال بن جاتا ہے کہ:

عروج کا نشہ جتنا بلند ہو، زوال اتنا ہی گہرا ہوتا ہے—اور رب جب پکڑتا ہے تو چھوڑتا نہیں، مگر جب تھامتا ہے تو گرنے نہیں دیتا۔