Tere Ishq Se Meri Zaat Tak by Ayeshy Mughal NovelM80062

Tere Ishq Se Meri Zaat Tak by Ayeshy Mughal NovelM80062 Last updated: 8 December 2025

[favorite_button post_id="16004"]
49,896 Views
Bookmark
On-going

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tere Ishq Se Meri Zaat Tak by Ayeshy Mughal

Novel code: NovelM80062

آج زلیخا بائی کے کوٹھے پر اس کوٹھے کی سب سے خوبصورت لڑکی قیمت لگائی جا رہی تھی۔۔۔ وہ لڑکی جس کے حسن کے چرچے اس کے آتے ہی اس کوٹھے پر مشہور ہوگئے تھے ۔۔ جسے دیکھتے ہی لوگوں کی آنکھیں چندھیا جاتی تھیں۔۔ مرد تو مرد لڑکیاں بھی اس کے حسن کو رشک بھری نظروں سے دیکھتی تھیں۔۔ ہاں آج اس کوٹھے پر عائشے گل کا کسی بے جان شے کی طرح "سودا" ہو رہا تھا ۔۔۔ آج اس کی ذات اور عزت دونوں کو داؤں پر رکھ دیا گیا تھا ۔۔۔ اور یہ تو کوئی عائشے گل کے دل سے پوچھتا کہ اس وقت وہ تکلیف و کرب کے کس مرحلے سے گزر رہی تھی ۔۔ آج یا تو اسے اپنی جان پر کھیل جانا تھا یا اپنی اس عزت کو ہار جانا تھا جس کی حفاظت اس نے اب تک اپنی جان سے بڑھ کر کی تھی۔۔۔ آج اگر اس کے سامنے بیٹھا یہ حسین شہزادہ اس کی عزت کو بچانے میں ناکام ہو جاتا تو اپنے پلّوں کے نیچے چھپائی ہوئی چھری سے وہ یہیں سب کے سامنے اپنی جان اپنے ہاتھوں سے لے لیتی ۔۔۔ اب دیکھنا یہ تھا کہ جیتنا کس کو تھا۔۔ ؟؟؟ اس کی عزت کو یا جان کو یا ایک ساتھ دونوں کو ۔۔
آج زندگی میں پہلی بار عائشے گل نے اپنے لئے کسی کے سامنے ہاتھ پھیلایا تھا۔۔ کسی سے کچھ مانگا تھا۔۔۔ ہاں آج عائشے گل نے اس حسین شہزادے کے سامنے اپنی عزت کی بھیک مانگی تھی ۔۔۔ اپنی خالی جھولی اس شخص کے آگے پھیلائی تھی اور خدا نے اس حسین صورت والے پیارے سے شخص کو اس کے لئے "نجات" بنا کر ہی بھیجا تھا تبھی تو ھیشم اسماعیل خان عائشے گل کی زبانی ساری بات سن کر سیدھا اس کمرے سے باہر نکلا تھا اور اسی مرکزی کمرے میں چلا آیا تھا۔۔۔ اور کمرے میں لائن سے پڑے صوفوں میں سے ایک صوفے پر وہ دوبارہ آ بیٹھا تھا ۔۔۔ پھر اس نے کمرے میں موجود نوکر سے کہہ کر فوراً زلیخا بائی کو بلوایا تھا۔۔ زلیخا ایم این اے صاحب کا بلاوا سن کر فوراََ دوڑی چلی آئی تھی اور اس کا مطالبہ سن کر دنگ رہ گئی تھی۔۔۔ پھر کچھ ہی دیر میں کوٹھے کے ملازمین نے اس شہزادے کا مطالبہ ہر کسی کو سنا ڈالا تھا۔۔۔ اور تھوڑی ہی دیر میں کمرے میں لوگوں کا ہجوم لگ گیا تھا۔۔۔ عائشے گل کو بھی فوراً طلب کیا گیا تھا۔۔۔ ھیشم کے دوست بھی کچھ ہی دیر بعد اس کمرے میں چلے آئے تھے۔۔۔ اور اس کے آس پاس جا بیٹھے تھے۔۔۔ پھر ھیشم اسماعیل خان نے دوبارہ سے زلیخا کے سامنے اپنا مطالبہ دہرایا تھا ۔۔ زلیخا نے جانچتی نظروں سے اپنے سامنے پوری شان سے بیٹھے اس شہزادے کو دیکھا تھا جو اس کے کوٹھے کے سب سے قیمتی "ہیرے" کا طلبگار بنا بیٹھا تھا ۔۔ ہاں ھیشم اسماعیل خان زلیخا کے سامنے بیٹھا عائشے گل کی قیمت لگا رہا تھا۔۔ جبکہ آس پاس بیٹھے اس کے گورے دوست حیرت سے ساری کاروائی دیکھ رہے تھے ۔۔۔۔
"بیس لاکھ "ھیشم نے کے پہلی بولی لگائی تھی۔۔ اتنی بڑی قیمت سن کر زلیخا کی بانچھیں کھل گئیں۔۔ لیکن اس نے اپنے تاثرات کمال ہوشیاری سے چھپا لئے تھے ۔۔۔ وہ جانتی تھی ھیشم جیسے انسان کا اگر اس لڑکی پر دل آہی گیا ہے تو وہ اسے کسی بھی قیمت پر حاصل کرکے رہے گا ۔۔۔۔ اسی لئے اسے اس وقت یہ کھیل بہت سوچ سمجھ کر "کھیلنا" تھا۔۔ اس طرح کہ اس کا فائدہ بھی ہو جائے اور یہ مغرور شخص بھی اس کے سامنے "زیر" ہوجائے۔۔
"سرکار ۔۔۔ یہ لڑکی میرے کوٹھے کا "کوہ نور" ہے ۔۔ اور اسے پہلی بار آپکے سامنے پیش کیا گیا ہے ۔۔۔۔ کیونکہ آج یہی مجھے آپ کے "شایان شان" لگی تھی۔۔۔ آج سے پہلے اس لڑکی کو کسی نے ہاتھ لگانا تو دور کی بات دیکھا تک نہیں ۔۔اگر ۔۔۔" ھیشم جانتا تھا کہ وہ اتنے بڑے کوٹھے کو چلانے والی یہ عورت اس کھیل کی ماہر "کھلاڑی" تھی ۔۔۔ وہ اتنی آسانی سے اپنے جال میں پھنسی اس "بیش قیمتی مچھلی" کو نکلنے تو نہیں دے گی۔۔۔ وہ اتنی سی "رقم" کے لئے تو عائشے کو نہیں چھوڑ سکتی تھی ۔۔۔ وہ جانتا تھا کہ زلیخا مزید رقم کا مطالبہ ضرور کرے گی اس لئے اس نے اپنی رعب دار آواز میں زلیخا کی بات پوری ہونے سے پہلے ہی کاٹ دی تھی ۔۔۔
"پچاس لاکھ "۔۔اس کی سرد گرجدار آواز پورے روم میں گونجی تھی ۔۔۔ اور سارے مجمعے کو جیسے سانپ سونگھ گیا تھا۔۔
"سرکار وہ۔۔۔۔ " زلیخا متذبذب سی بولنے ہی لگی تھی دوبارہ ھیشم کی آواز گونجی تھی۔۔
"ایک کروڑ۔۔۔۔ " اور اس بار زلیخا کی زبان تالو سے چپک گئی تھی ۔۔ اس کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئی تھیں۔۔ کچھ دیر کے لئے وہ بھول گئی تھی کہ وہ ھیشم اسماعیل خان تھا۔۔ اس علاقے کا ایم این اے اور ایک مغرور رئیس زادہ ۔۔۔ جس کے سامنے کوئی مرد بھی آنکھ اٹھا کر بات کرنے کی جسارت نہیں کرتا تھا۔۔ مگر آج وقت اسے کس موڑ پر لے آیا تھا کہ وہ عائشے گل کے لئے بازار حسن میں بیٹھی اس "طوائف" کے ساتھ اپنا عہدہ اور مقام بھلائے "ڈیلنگ" کرنے میں مصروف تھا ۔۔۔۔
عائشے گل جو کب سے سر جھکائے خاموش کھڑی اس جلاد صفت عورت اور اس ھیشم اسماعیل خان کی باتیں سن رہی تھی۔۔ اپنی "قیمت" کو سن کر اس نے جھٹکے سے سر اٹھا کر اس نوجوان شہزادے کو دیکھا تھا۔۔۔ جبکہ ھیشم اسماعیل خان ہر چیز سے بے نیاز شاہانہ انداز میں ٹانگ پر ٹانگ رکھے بیٹھا تھا۔۔ اس نے اپنی بات مکمل کرتے ہی اپنے پاس کھڑے اپنے سیکٹری کو اشارہ کیا تھا اور اس کے سیکرٹری نے ایک کروڑ کا چیک لکھ کر زلیخا کے منہ پر مارا تھا۔۔ چیک پر ایک کروڑ کی رقم لکھی دیکھ کر زلیخا کا سر واقعی گھوم گیا تھا وہ بے یقین نظروں سے کبھی چیک کو تو کبھی سامنے بیٹھے ھیشم کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔ مگر پھر ھیشم کی سرد اور ٹھہری ہوئی آواز سے وہ چونک کر ہوش کی دنیا میں آئی تھی ۔۔۔۔
"ہمارا خیال ہے یہ رقم تمھاری اوقات سے بہت زیادہ ہے مگر بات عائشے گل کی ہے جن کے سامنے دنیا بھر کے خزانے بھی ہیچ ہیں ۔۔۔"
اتنا کہہ کر وہ اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا تھا اور عائشے کے سامنے چلا آیا تھا ۔۔ عائشے کے چہرے پر سجی ان خوبصورت آنکھوں کو دیکھ کر اسے بار بار ڈر لگ رہا تھا کہ کہیں وہ ان گہری جھیلوں میں ڈوب نا جائے ۔۔۔ یہ نہیں تھا کہ اس نے اپنی زندگی میں کبھی خوبصورت لڑکیاں نہیں دیکھی تھیں ۔۔
دیکھی تھیں ایک سے بڑھ کر ایک دیکھی تھیں۔۔ مگر عائشے گل میں نجانے ایسی کیا خاص بات تھی کہ اس پر پہلی نظر ڈالتے ہی ھیشم کی پوری ہستی عائشے کے سامنے سرنگوں ہوگئی تھی ۔۔۔اب بھی اس نے آہستگی سے عائشے کا ہاتھ تھاما اور اسے لئے پوری شان سے گردن اٹھا اس کوٹھے کی دہلیز پار کر گیا۔۔ جبکہ عائشے کسی بے جان گڑیا کی طرح اس کے ساتھ گھسیٹتی ہوئی چلی جا رہی تھی۔۔۔ اور پیچھے کھڑے سبھی لوگ آنکھیں پھاڑے اور منہ کھولے ان دونوں کو جاتے دیکھ رہے تھے ۔۔۔

 

Summary ( spoiler-free)

Tere Ishq Se Meri Zaat Tak is an emotional social-romantic novel that tells the story of two people bound by fate through painful circumstances and family pressure. Their relationship begins in hardship, where love slowly grows amid misunderstandings, sacrifices, and emotional struggles. The novel highlights how deep love can change a person’s identity, endure suffering, and fight against rigid social norms and expectations.

Genre

Rude Hero | Politician Based | Village Based

Social-Romantic | Emotional Love Story | Forced Marriage | Tragic Romance | Family Drama