Pyar Howa Tha by Zeenia Sharjeel | Heart-touching Urdu Romance | Emotional Married Life Story NovelM80045 Last updated: 2 December 2025
Payar Howa Tha By Zeenia Sharjeel
Novek Code: NovelM80045
وہ عرا کے وجود کو اپنے سینے میں چھپائے عرا کے سامنے اعتراف کرنے کے ساتھ اس کے بالوں پر اپنے ہونٹ رکھ چکا تھا
"تم بھی آنٹی کے جیسے ایموشنل ہورہے ہو میری جگہ کوئی دوسرا ہوتا وہ بھی یہی کام کرتا اب ایسا بھی کوئی بڑا کام نہیں کیا ہے میں نے"
عرا ریان کے سینے سے اپنا سر ہٹاکر اونچا کرتی ہوئی ریان کا چہرہ دیکھ کر بولی
"ہر کسی کا ظرف اتنا بلند نہیں ہوتا ماں نے تمہارے ساتھ ہمیشہ سے جو رویہ رکھا اس کے باوجود تم نے ان کے مشکل وقت میں ان کو نوکروں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا یا پھر میرے واپس آنے کا ویٹ نہیں کیا۔۔۔ تم جانتی ہو مجھے آج ایک مرتبہ دوبارہ تم سے محبت ہوچکی ہے تمہارے اِس خوبصورت دل کی وجہ سے"
ریان بولتا ہوا اس کے چہرے پر جھکا محبت بھری مہر عرا کی پیشانی پر ثبت کرتا پیچھے ہوا تو عرا ریان کی بات پر ہنس دی
"اب تم اور بھی زیادہ جذباتی ہورہے ہو اچھا ابھی مجھے چھوڑو، رات کے ڈنر کی بھی تیاری کرنی ہے"
عرا ریان سے بولتی ہوئی اس کے حصار سے باہر نکلنے لگی
"ہمارا ڈنر باہر سے آجائے گا اور تم مجھے جذباتی ہونے سے نہیں روک سکتی کیونکہ رات میں تمہیں سوتا ہوا دیکھ کر میں اپنے جذبات پر قابو پاچکا تھا اس لیے اب اچھی بیوی ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے تمہیں میرے جذبات کا خیال رکھنا چاہیے"
ریان عرا سے بولتا ہوا اسے اپنے بازوؤں میں اٹھاکر بیڈ پر لے آیا
"ریان یہ کوئی وقت ہے آنٹی کو کبھی بھی ضرورت پڑ سکتی ہے شمع بھی موجود نہیں ہے کچھ تو خیال کرو ابھی تھوڑی دیر میں عون بھی آجائے گا"
عرا شام کے وقت ریان کا موڈ دیکھ کر ہڑبڑاتی ہوئی بولی
"عاشو ماں کے پاس موجود ہے وہ ماں کو دیکھ لے گی اور عون کا پیٹ بھرا ہوا ہے وہ ابھی ہمہیں ڈسٹرب نہیں کرے گا اس وقت عون کے باپ کو زور کی بھوک لگی ہے ویسے بھی رول (rule) نمبر سکس کے مطابق تمہیں اچھی بیوی ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے شرافت سے مان جانا چاہیے ورنہ رول نمبر( 10) کے مطابق اس دوپٹے سے میں تمہارے دونوں ہاتھ باندھ دو گا"
ریان عرا کا دوپٹہ گلے سے اتار کر سائیڈ پہ رکھتا ہوا اسے دھمکانے کے ساتھ ساتھ عرا پر جھک گیا
"بہت بدتمیز ہو تم اپنی اس بےوقت کے بھوک کا علاج کرو، اب ایسا بھی ٹھیک نہیں ہے بندہ ہر وقت ہی کسی بھی ٹائم بس شروع ہو جائے"
وہ عرا کی گردن پر جھکا اپنی شدتیں اس پر عیاں کرنے لگا تب اسے عرا کی آواز سنائی دی
"میری اس بے وقت کی بھوک کا علاج صرف تم ہی ہو میری جان، پرسوں رات میں تمہیں بےشرم لگا تھا اور اب اچانک بدتمیز ہوگیا پہلے تم خود ڈیسائیڈ کرلو کہ میں زیادہ بے شرم ہوں یا بدتمیز"
ریان اپنی شرٹ اتار کر بیڈ پر پھینکتا ہوا عرا کے ہونٹوں پر جھک گیا اس وقت نہ چاہتے ہوئے بھی عرا کو ریان کی مانتے ہوئے اس کی جانب متوجہ ہونا پڑا
"ریان پیچھے ہٹو دروازہ ناک ہوا ہے"
چند سیکنڈ بعد وہ ریان کو پیچھے ہٹاتی ہوئی دوپٹہ لے کر اپنے بال سمیٹتی ہوئی بیڈ سے اتری
"یار اس وقے عاشو کو کیا مسئلہ ہوگیا اسے جلدی فارغ کرنا باتوں میں مت لگ جانا"
ریان عرا سے بولتا ہوا ڈریسنگ روم میں چلے گیا۔۔۔ عرا نے کمرے کا دروازہ کھولا تو عشوہ عون کو گود میں لیے کھڑی تھی
"اس کا موڈ خراب ہورہا تھا یہ کبھی بھی رونے کا پروگرام شروع کرسکتا تھا اس سے پہلے اس کا باجا بجتا میں اس کو تمہارے پاس لے آئی"
عشوہ عرا کو عون کے بارے میں بتاتی ہوئی بولی عون جو کہ رونے والا تھا عرا کی گود میں آکر اپنے رونے کا پروگرام کینسل کرچکا تھا
"ہاں اس کو بھوک لگ گئی ہوگی"
عرا مسکراتی ہوئی عشوہ سے بولی ان دونوں کے درمیان سرد دیوار آج شام گر چکی تھی عشوہ نے خود سے پہل کر کے عرا سے بات چیت کی تھی اور عرا سے اچھی طرح ملی تھی
"کیا ہوگیا میری جان کو پھپھو کے پاس رونا آرہا تھا"
عرا عون کو گود میں لیے بہلاتی ہوئی فیڈ کروانے کے ارادے سے بیڈ پر لےکر بیٹھ گئی ریان جب ڈریسنگ روم سے واپس آیا تو ریان کو دیکھ کر عرا کو بےساختہ ہنسی آگئی وہ کندھے اچکاتی ہوئی اسے دیکھنے لگی مطلب اب وہ کچھ نہیں کرسکتی تھی ریان ٹھنڈی آہ بھر کر وہی عون کے پاس لیٹ گیا
"پی لے میرے لعل سارا تو ہی پی جا"
ریان عون کو پیار کرتا ہوا حسرت سے بولا جس پر عرا نے آنکھیں نکال کر ریان کو گھورا
"توبہ ہے ریان کبھی کبھار کس قدر فضول بولتے ہو تم"
عرا کے ٹوکنے پر ریان واپس اپنی شرٹ پہننے لگا
"اچھا خاصا موڈ بن گیا تھا اب رات پہلے مجھے اپنی اولاد کو خود سلانا پڑے گا نہیں تو آج رات بھی میں بھوک برداشت کرتا رہ جاؤ گا"
ریان اپنی دھن میں شرٹ کے بٹن بند کرتا ہوا بول رہا تھا تبھی اس کے موبائل پر میسج آیا
"موبائل دینا یار معلوم نہیں کون میسج کررہا ہے" موبائل اس کی پہنچ سے دور تھا اس لیے وہ بے دھیانی میں عرا سے بولا۔۔۔
ریان کا موبائل عرا نے اپنے قریب ہونے کی وجہ سے اٹھایا اور ریان کو دینے کی بجائے خود اس کا میسج پڑھتی ہوئی بولی
"بیوٹی فل میموریز"
یہ واٹس ایپ پر آئی کچھ پکس تھی جو نیٹ سلو ہونے کی وجہ سے ابھی تک اپلوڈ نہیں ہوئی تھی عرا نے میسج بھیجنے والے کا نام پڑھا
"یہ ایلکس کون ہے کہیں سنا سنا لگ رہا ہے یہ نام"
عرا خود سے بولتی ہوئی واٹس ایپ پر آئی پکس کھلنے کا انتظار کرنے لگی جبکہ ایلکس کا نام سن کر ریان کو بری طرح کرنٹ لگا اس نے اپنا ہاتھ آگے بڑھا کر عرا سے فوراً اپنا موبائل لینا چاہا
"عرا دکھاؤ مجھے موبائل"
اس سے پہلے وہ اپنا موبائل عرا کے ہاتھ سے لیتا عرا ریان کا ارادہ بھانپتی ہوئی اس سے پہلے ہی اپنا ہاتھ پھرتی سے کمر کے پیچھے کرچکی تھی
"نہیں پہلے مجھے یہ پکس دیکھنی ہیں پھر تمہیں موبائل دوگی"
عرا ریان کے چہرے پر اڑتی ہوائیاں دیکھ کر بے ساختہ بولی
A deeply emotional romance where love grows, jealousy strikes, and one unexpected message threatens the peace of a perfect married life.
Pyar Howa Tha by Zeenia Sharjeel is a tender, emotional Urdu romance that beautifully captures the evolution of love between Rayan and Aira—two people bound by marriage, responsibility, and an affection that keeps deepening with every passing moment.
The story opens with an intimate confession: Aira’s kindness toward Rayan’s mother melts the last remaining walls around his heart. Despite the harsh treatment Aira once endured, she stood by his mother in her weakest moments. This selfless act makes Rayan fall for her all over again—deeply, honestly, and completely.
Aira brushes off his emotional words, insisting he’s only being dramatic. But Rayan isn’t done. Pulling her close, he admits that while she slept peacefully the previous night, he struggled to control his feelings. Now, he wants his wife to acknowledge the love blooming between them.
Playful banter turns into romantic heat as Rayan teasingly mentions his “rule number 6” for a good wife—only for Aira to protest, reminding him of their responsibilities and the possibility of interruptions. Their moment is cut short by little Aun crying, and the tension shifts from romance to parenting in seconds.
But everything changes when a WhatsApp message appears on Rayan’s phone.
A name—Alex.
A set of beautiful memories.
And Aira’s curiosity turns into suspicion.
Before Rayan can stop her, Aira sees the notification, and his face drains of color. That single moment hints at secrets, misunderstandings, and a past Rayan never wanted to resurface.
Love, desire, trust, jealousy, and the delicate balance of married life—Pyar Howa Tha mixes warmth, humor, intimacy, and emotional depth in Zeenia Sharjeel’s signature storytelling style.
GENRE
-
Urdu Romantic Fiction
-
Married Life Romance
-
Emotional Love Story
-
Family & Relationship Drama
-
Light Comedy + Jealousy Trope
-
Contemporary Urdu Novel