Angan By Arfa Ijaz
Novel Code: NovelM80016
"بھائی ایسا نہ کہیں دیکھا نہ سنا کہ سات جوان بیٹیوں کے ہوتے ہوئے بھی باپ ناشتہ بنا رہا ہے" جب دادو سے زیادہ دیر باہر اکیلا بیٹھا نہ گیا تو وہ اٹھ کے کچن میں آ گئی تھیں اور حسین صاحب کو ناشتہ بناتے دیکھ کر انہوں نے کانوں کو ہاتھ لگائے تو حسین صاحب خوامخواہ ہی شرمندہ ہو گئے تھے
"آپ کا مسئلہ کیا ہے؟ مہمان ہیں تو مہمان بن کے رہیں ہمارے ذاتی معاملات میں دخل اندازی مت کریں آپ" مریم کا ضبط جواب دے گیا اور وہ پھٹ پڑی تھی
"مریم" حسین صاحب نے اس کا نام پکارتے آنکھوں ہی آنکھوں میں اسے چپ رہنے کا اشارہ کیا تھا
"آئے ہائے حسین تم نے تمیز نہیں سکھائی اپنی بیٹیوں کو کہ بڑوں سے کیسے بات کرتے ہیں؟" انہوں تھوڑی پہ ہاتھ رکھتے مریم کو اک گھوری سے نواز حسین صاحب سے کہا تھا ان کی باتوں کی آواز سن کے وہ سب بھی کمرے سے باہر آ گئی تھیں
"ہاں نہیں سکھائی تمیز کیونکہ وہ اکیلے تھے سات بیٹیوں کو سنبھالنے والے ان کے کاموں اور روزی روٹی کا وسیلہ کرنے کے بعد ان کے پاس اتنا ٹائم نہیں بچتا تھا کہ وہ ہمیں تمیز سکھا سکیں اور اس ٹائم ان کے نام نہاد رشتے دار بھی پتہ نہیں کہاں تھے جو ہمیں تمیز سکھا دیتے" جواب مریم کی بجائے فاتینا کی طرف سے آیا تھا
"رشتے دار کیوں سکھاتے یہ تو ماں باپ کی ذمہ داری ہے" انہوں نے نخوت سے سر جھٹکا تھا
"ہاں بھئی رشتے داروں کی ذمہ داری بس باتیں بنانا اور طعنے دینا ہے آپ لوگ کیوں نہیں جینے دیتے ہمیں پہلے بیٹیوں کے طعنے دے دے کر ڈپریشن کا مریض بنا دیا ہے ہمارے باپ کو اب ہم انہیں اس سے باہر لانا چاہ رہے ہیں یہ بھی نہیں منظور آپ کو برائے مہربانی ہمارے گھر مت آیا کریں ہمیں نہیں ضرورت ایسے رشتے داروں کی" مریم انہیں کھری کھری سناتی آنکھوں میں آنسو لیے کچن سے واک آؤٹ کر گئی تھی
"پھوپھی معذرت چاہتا ہوں بچی ہے غصے میں کہہ گئی ہے سب آپ تو بڑی ہیں درگزر کر دیں" انہیں منہ کھولتے دیکھ کر حسین صاحب نے نرمی سے کہا تو وہ سر جھٹکتیں باہر چلی گئی تھیں
"کسی کو بھی افسردہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے فاتینا زینیہ تم دونوں ناشتہ اور تم سب اپنے اپنے سکول کالج جانے کی تیاری کرو میں دیکھتا ہوں مریم کو" حسین صاحب نے ان سب کو منہ لٹکائے دیکھ کر کہا تھا اور خود ان کے کمرے کی طرف گئے تھے وہ کمرے میں داخل ہوئے تو مریم بیڈ پہ بیٹھی آنسو بہا رہی تھی
"میرا بچہ تو بہت بہادر ہے پھر آج کیسے ضبط ٹوٹ گیا؟" اس کے پاس بیٹھتے انہوں نے مریم کے آنسو صاف کرتے نرمی سے پوچھا تھا
"بہادر لوگ بھی تو انسان ہوتے ہیں انہیں بھی تو دوسروں کی باتوں سے درد ہوتا ہے نا" اس نے شکایتی نظریں اٹھا کے انہیں دیکھا تھا
"ایسے لوگ تو تمہیں قدم قدم پہ ملیں گے کس کس کا منہ بند کراؤ گی؟ اور میں اچھی طرح جانتا ہوں میری بیٹیاں کیا ہیں اس کے لیے دوسروں کی گواہی کی کیا ضرورت ہے اور لوگوں کی باتوں کو خود پہ سوار کر کے میں جو ڈپریشن کا مریض بنا ہوں میں نہیں چاہتا میری بیٹیوں کے ساتھ بھی ایسا کچھ ہو ایسے لوگوں کی باتوں کو نظرانداز کر دیا کرو" انہوں نے نرمی سے سمجھایا تو اس نے سر ہلایا تھا
"شاباش میرا بچہ تم سب میرا فخر ہو اب جا کر دادو سے سوری کرو" انہوں نے مریم کا سر چوما تھا
"اگر مطلع صاف ہو گیا ہو تو ہم اندر آ سکتے ہیں وہ کیا ہے نا ہمیں سکول کے لیے تیار ہونا ہے" دروازے سے سر نکالتے روش نے کہا تو حسین صاحب اور مریم دونوں مسکرا دیے تھے
پھر مریم اٹھ کے باہر آئی تھی اور برآمدے میں بیٹھی دادو کو لٹھ مار انداز میں سوری کہتے کچن میں چلی گئی تھی وہ چاہ کے بھی ان کے ساتھ نرم رویہ اختیار نہیں کر پائی تھی اس کے کچن میں آتے ہی زینیہ اور فاتینا نے شکر ادا کیا اور پھرتی سے کچن سے نکل گئی تھیں انہیں جاتا دیکھ کر مریم نے افسوس سے سر ہلایا تھا
___________________________
This emotional family drama follows Hussain, a devoted father raising seven daughters entirely on his own, facing constant criticism from judgmental relatives. A simple morning turns into conflict when their grandmother mocks Hussain for making breakfast — something she believes a man with grown daughters shouldn’t do.
Maryam, one of the elder daughters, finally breaks under years of taunts and defends her father fiercely. Fateena joins her, revealing how relatives disappeared when the family needed help but always return to criticize. The emotional tension brings out past wounds, highlighting Hussain’s quiet suffering and his daughters’ unwavering loyalty.
Later, Hussain comforts Maryam, reminding her that people will always talk, but their strength lies in rising above harsh words. His daughters are his pride — and together, they face the world with resilience, love, and unity.
GENRE
-
Family Drama
-
Emotional Fiction
-
Father–Daughter Bond
-
Social Issues
-
Women-Centered Story
A gripping emotional tale of courage, dignity, and daughters who refuse to let society break their family.