Ana Zadi by Noor ul Huda NovelM80060

Ana Zadi by Noor ul Huda NovelM80060 Last updated: 6 December 2025

[favorite_button post_id="15931"]
50,470 Views
Bookmark
On-going

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ana Zadi by Noor ul Huda

Novel code: NovelM80060

ایک گھنٹہ ہو گیا تھا لیکن واسع ابھی تک نہیں آیا تھا۔اس نے بیڈ کرواؤن سے ٹیک لگا لی تھی۔ نیند جیسی ہی حاوی ہوئی وہ آنکھیں موند گئی۔ خود پر کچھ پھینکے جانےپر اس کی آنکھ کھلی تھی۔ وہ ہڑبڑا کر سیدھی ہوئی تھی۔ اس نے ایک نظر سامنے غصے میں کھڑے واسع کو دیکھا اور پھر اپنی گود میں پڑے عبایا کو۔
"پہنو اسے۔ "
وہ یک دم غصے سے بولا تو اجیہ اپنی جگہ پر اچھلی تھی۔
"واسع! آپ۔۔۔۔۔۔"
"جو کہا ہے کرو۔ ۔۔"
اسے بولنے کا موقع دیے بنا وہ پھر سے بولا تو اجیہ اس کا غصہ دیکھ کر ڈر گئی۔
"آپ ایسا کیوں کہہ رہے ہیں؟ "
اس نے ڈرتے ڈرتے پوچھا تو وہ اس کے پاس آیا۔
"کیونکہ میرا کردار بہت ہی برا ہے ،میری نظریں پاک نہیں ہے۔ "
دانت چبا کر بولتا وہ اجیہ کو سن کر گیا تھا۔
"واسع! "
اس نے دکھ سے پکارا تو واسع ہنسا۔
"تم نے کہا شادی سے پہلے بات نہیں، ملاقات نہیں، شاپنگ تک پر تم نہیں مانی، تمہاری ان چند باتوں نے متاثر کیا تھا مجھے یہی وجہ تھی جو بنا تمہیں دیکھے اس شادی کے لیے ہاں کی۔(وہ ہلکا سا مسکرایا تھا، اجیہ کے آنسو لگاتار بہہ رہے تھے) لیکن آج نکاح کے بعد بھی وہی گریز؟ "
"واسع !میں پردہ۔۔۔۔۔"
"شٹ اپ! تمہارا یہ سوکالڈ پردہ صرف مجھ سے تھا، میرا بھائی، تمہارے کزن کیا وہ سب محرم تھے تمہارے؟"
واسع کے چلانے پر اس نے روتے روتے نفی میں سر ہلایا۔
"اس گھر میں قدم رکھتے ہی تمہارا وہ پردہ اتر گیا، باہر جتنی رسم ہوئی آس پاس میرے سب کزن موجود تھے لیکن تمہیں صرف میرے سامنے آنے پر اعتراض تھا۔یہ کونسا پردہ تھا جس کی ہر شرط مجھ پر لاگو ہوتی تھی۔ میری نکاح میں موجود لڑکی کو صرف میرے چہرے دیکھنے پر اعتراض تھا لیکن باقی سب کے سامنے۔۔۔۔۔"
وہ آگے بول نہیں پایا تھاشاید بولنا نہیں چاہتا تھا، کمرے سے منسلک دروازہ کھولتا سیڑھیاں اتر گیا تھا۔ اس کے کمرے کے پچھلی جانب بیک ڈور تھا،وہ چلا گیا تھا اجیہ رو رہی تھی۔ واسع کی باتوں نے اسے شرمندہ کر دیا تھا، اپنے عبایا کو دیکھ کر اسے نفرت ہوئی تھی خود سے۔
*********

 

Summary (spoiler-light)

Ana Zadi centers around a romantic relationship burdened by social constraints, family expectations, and forced/traditional marriage dynamics. The characters are drawn into a love story that isn’t straightforward — love blossoms, but their bond is tested by societal norms, familial pressure, and obligations. The novel delves into the emotional and social struggles the lovers face: conflicts between personal desires and what social/traditional obligations demand, highlighting pain, sacrifice, societal judgments, and the turmoil of a forced relationship.

Genre

Social-Romantic Novel

Drama / Emotional Love Story with societal / family-pressure themes

Forced-Marriage / Cousin-Marriage / Traditional-Pressure Fiction (because the story involves forced or socially pressured relationships)