📱 Download the mobile app free
Home > Meri Jaan Hai Tu By Umme Emman Fatima NovelM80071 > Meri Jaan Hai Tu (Episode - 14) Last Episode
[favorite_button post_id="16338"]
47681 Views
Bookmark
On-going

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Meri Jaan Hai Tu (Episode - 14) Last Episode

Meri Jaan Hai Tu By Umme Emman Fatima

منو۔۔تمھاری فلاٸٹ تھی۔۔مشال پریشان کن لہجے میں بولتی ہے۔۔منال اسکو سب بتاتی جو اذان شاہ نے کیا۔۔پتا ہے آپو کل سے وہ مسجد میں بیٹھے آپ کے لٸے رو رہے۔۔منال اسکو مزید بتاتی ہے۔۔۔

مشال سپاٹ چہرے کے ساتھ بیٹھی رہتی ہے۔۔۔

کچھ کہو گی نہی۔منال اس سے استفسار کرتی ہے۔

منو۔۔۔وہ میرے لٸے نہی رو رہے۔ان کے اندر کاگلٹ ہے اور کچھ نہی۔مشال تلخ لہجے میں کہتی ہے۔۔

آپو گلٹ بھی ہے تو بھی یہ کم بات تو نہی۔اگر وہ آپ سے معافی مانگے گے تو کیا کریں گی آپ ۔۔منال اس سے پوچھتی ہے۔۔میں اسکو معاف نہی کر سکتی کیونکہ میں کچھ نہی بھول سکتی۔وہ کرب سے آنکھیں بند کر لیتی ہے۔۔منال بوجھل دل سے اٹھ جاتی ہے۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اذان شاہ اندر داخل ہوتا ہے۔مشال اسکو سپاٹ چہرے سے دیکھ کر میگزین پر نظریں گاڑ دیتی ہے۔

وہ پاس آ کر بیٹھ جاتا ہے۔۔کیسی ہو۔۔۔وہ ہولے سے پوچھتا ہے۔۔آپ کو میری طبیعت سے کیا لینا دینا۔۔اور بہت شکریہ آپ نے بچا لیا۔ورنہ شاید میں وہاں مر جاتی اور لوگوں کو پتا بھی نہ چلتا۔۔اذان شاہ تڑپ کر رہ جاتا ہے۔۔۔پلیز ایسے مت کہو وہ کرب سے کہتا ہے۔۔وہ ناگواری سے اسکو دیکھتی ہے۔۔وہ آگے ہو کر اسکا ہاتھ تھام لیتا ہے۔پلیز ایم سوری۔وہ شرمندگی بھرے لہجے میں کہتا ہے۔۔۔۔

ایم سوری بولنے سے مجھے دٸیے گے درد خوشیوں میں بدل جاٸیں گے۔۔۔وہ تلخ لہجے میں کہتی ہے۔۔

وہ شرمندگی سے سر جھکا لیتا ہے۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مشال کو ڈسچارج کروا کر شاہ ولا لیکر آتے ہیں۔۔

وہ گاڑی میں ہی ضد لگا کر بیٹھ جاتی ہے۔۔بس اسکواپنے گھر جانا ہے۔۔اچھا پلیز۔۔اندر چلیں بی بی جی سے مل کر پھر چلے جانا منال اسکو کہتی ہے۔

وہ اندر لاٶنج میں داخل ہوتے ہیں بی بی جی صدقہ اتارتی ہے۔۔وہ تھوڑی دیر بیٹھتی ہے۔۔پھر جانے کی ضد کرتی ہے۔تو منال اور سنی اسکو چھوڑنے جاتے ہیں تو اذان شاہ دروازہ کھولتا ہے۔۔وہ تینوں حیران رہ جاتے۔۔پورے صحن میں پھول بچھے تھے۔

وہ منال کا سہارا لٸے اندر آتی تو اندر ٹیبل پر کیک پڑا ہوتا ہے ۔۔وہ صوفے پہ بیٹھ جاتی ہے۔۔تو اذان شاہ کیک لیکر اسکے سامنے بیٹھ جاتا ہے۔وہ کیک اٹھا کر دور پھینکتی ہے۔وہ غصے سے اسکو گھورتی ہے۔اور پھر خود ہی ہولے سے چلتے ہوۓ کمرے میں چلی جاتی ہے۔۔۔۔۔ارےےے بھاٸی آپ ھس رہے ہو یار۔

سنی اسکو ہستا دیکھ کر پوچھتا ہے۔۔۔بات ھسسی والی ہے تو سنے گا ہسسی نہی روک پاۓ گا۔۔

ایسی کیا بات ہے ذرا ہمیں بھی بتاٸیں۔۔۔

یار میں سوچ رہا شکر ہے اس نے کیک زمین پر مارا اگر منہ پر مار دیتی تو پہلی بار اذان شاہ کا تھوبرا کیک میں لت پت کیسا لگتا۔وہ اسکے کندھے پر ھاتھ رکھ کر کہتا ہے۔سنی پہلے اسکے چہرے کو دیکھتا ہے۔پھر منال کی طرف دیکھتا ہے۔۔پھر اگلے پل سنی اور منال کھلکھلا کر ہسس پڑتے ہیں۔۔

پھر اذان شاہ انکو کہتا تم لوگ جاٶ اپنا ہنی مون مناٶ۔۔میں نے حمیر کو کہہ تم دونوں کے لٸے کمرا بک

کروا دیا ہے۔۔جاٶ بھاگو۔مجھے میری بیوی کو منانے کا کام شروع کرنا ہے۔۔اوکے بھاٸی آل دا بیسٹ۔۔سنی

اسکو کہتا ہے۔اور پھر دعاٸیہ انداز میں ہاتھ اٹھا کر کہتا ہے یااللہ میرے بھاٸی کی حفاظت کرنا۔اذان شاہ اسکو مکادیکھاتا ہے۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اذان شاہ کھانا لیکر اندر داخل ہوتا تو منال رو رہی ہوتی ہے۔۔وہ جلدی سے کھانا میز پر رکھ کر اسکے پاس آتا ہے۔۔مشال کیا ہوا ہے۔کہی درد ہے کیا۔۔وہ بےقراری سے پوچھتاہے۔۔۔پلیز دفع ہو جاٶ یہاں سے درد یاد آتے مجھے اپنے۔آپ کو دیکھ کر۔۔وہ چلا کر بولتی ہے۔۔ایسے مت کہو یار میں اکیلا نہی چھوڑ سکتا تمہیں۔۔وہ بےبسی سے کہتا ہے۔۔۔

مجھے نہی ضرورت آپکی۔وہ تڑخ کر بولتی ہے۔۔

تم جو کہو گی کروں گا وہی کروں گا۔بس خود سے دور جانے کو مت کہو۔وہ التجاٸیہ انداز میں کہتا ہے۔۔

اچھا تو کل سے آپ کے امتحان شروع ھوں گے۔۔۔

دیکھنا چاہتی میں کیا کر سکتے ہیں۔۔۔وہ آنسو صاف کرتے ہوۓ بولتی ہے۔۔ہاں تم جو چاہو گی اذان شاہ خوش ہو کر کہتی ہے۔۔

صبح سے گھر کا سارا کام کرنا ہو گا آپ نے۔۔۔۔

ہاں بالکل۔۔میں نازو کو اپنی ہیلپ کے لٸے بھی بلوا لوں گا۔۔وہ ناگواری سے دیکھتی ہے۔میں اپنے گھر میں نوکر نہی رکھتی وہ تنک کر بولتی ہے۔۔

یہ کیا بات ہوٸی۔میں یہ کام نہی کر سکتا تمہیں پتا ہی ہے میں کس طرح کے ماحول میں رہتا ہوں۔میں تھکاوٹ سے بیمار ہو جاتا ہوں۔۔وہ اسکو کہتا ہے۔۔

تو پھر ٹھیک ہے یہاں سے دفع ہو جاٸیں ۔۔۔وہ تپ کر بولتی ہے۔۔۔ٹھیک ہے میں کروں گا کوٸی پرابلم نہی۔

چلیں کھانا کھاٸیں کچن سمیٹیں اور پھر جہاں مرضی سو جاٸیں۔۔صبح جلدی اٹھنا صفاٸی کرنا اور پھر اپنے کام پر جانا۔وہ اطمینان بھرے انداز میں کہتا ہے۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اذان شاہ صبح اٹھ کر ناشتہ بناتا ہے۔۔اور مشال ٹرے میں دیکھتی ہے۔۔یہ کیا ہے وہ ناگواری سے کہتی ہے۔

یار مجھے ایسا ہی کھانا بنانا آتا ہے۔۔۔وہ کہتا ہے۔

مطلب مجھے ایسا ہی کھانا پڑے گا وہ تپ کر بولتی ہے۔۔مجبوری ہے وہ سر پر ہاتھ پھیر کر کہتا ہے۔۔

وہ منہ بنا بنا کر کھا رہی ہوتی ہے۔۔۔میں نے سارا کام کر دیا ہے۔۔اور دوپہر کو کیا کھاٶ گی۔۔وہ اس سے پوچھتا ہے۔۔میں خود ہی کھا لوں گی وہ جان چھڑواتے ہوۓ بولتی۔۔۔وہ آفس جا کر بھی بار بار فون کرتا ہے۔۔ہر بار فون پر بےعزتی کروا کر پھر وہی حرکت کرتا ہے۔۔شام کو جلدی آ کر وہ کھانا بنانے لگ جاتا ہے۔کھانا کھا کر وہ کافی کے مگ لیکر ایک مشال کیطرف بڑھا دیتا دوسرا خود لیکر ٹی وی چلا کر بیٹھ جاتا ہے مشال کوٸی بک پڑھ رہی ھوتی ہے اوروہی پڑھتے پڑھتےسو جاتی ہے۔۔اذان شاہ اسکے پاس آتا اسکو گود میں اٹھا کر اندر کمرے میں لیکر جانے لگتا۔مشال کی آنکھ کھل جاتی۔چھوڑے مجھے وہ تپ کر کہتی ہے۔۔مگر وہ اسکو بیڈ پر جا کر لٹا دیتا ہے۔۔وہ تلملا کر رہ جاتی ہے۔۔

پچھلے ایک مہینے سے یہی روٹین تھی ان دونوں کی

اذان شاہ تھک کر جلدی سو جاتا ہے اس دن۔۔وہ اس کے پاس آتی ہے کھانا نہی کھانا کیا۔۔بنا کر سو گے ہو۔۔وہ جھنجھلا کر بولتی ہے۔میرا دل نہی کر رہا وہ غنودگی میں کہتا ہے۔۔وہ جانے لگتی تو اسکو آواز دیکر کہتا پلیز میرا سر بہت دکھ رہا ہے تھوڑا سا دبادو۔۔میں نوکر نہی ہوں آپکی۔وہ تڑخ کر بول کر وہاں سے چلی ھے۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔

رات کو مشال کی آنکھ کھلتی وہ پانی لینے کچن میں جاتی ہے۔تو دیکھتی اذان شاہ کے حصے کا کھانا ویسے ہی پڑا ہوتا ہے۔۔وہ تشویش میں پڑ جاتی ہے۔۔

وہ کمرے میں جاتی تو دیکھتی وہ ویسے ہی لیٹا ہوتا ہے۔۔وہ جا کر اسکے ماتھے پر ہاتھ رکھتی۔وہ بخار سے تپ رہا تھا۔۔وہ پریشان ہو کر جلدی سے سنی کو فون کرتی ہے۔سنی آدھے گھنٹے تک پہنچتا ہے۔اور بہت مشکل سے جگا کر اسکو میڈیسن کھلاتا اور پھر تھوڑا بخار ٹوٹتا ہے تو وہ انجیکشن لگاتا اور

مشال کو میڈیسن کے بارے میں بتا کر باہر نکل آتا۔۔مشال اسکو دروازے تک چھوڑتی ہے۔۔۔۔

بھابھی وہ کبھی ہم لوگوں سے دور نہی رہے۔یہ انکے پیار کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔۔۔ہماراگھر برسوں سے بہت ادھورا ہے پلیز اسے کیمپلیٹ کردیں۔۔سنی مشال سے کہتا ہے۔۔۔

مشال بوجھل قدموں کے ساتھ کمرے میں آتی۔۔

۔۔میں یہ کیوں کررہی ہوں۔میرے اندر بدلہ لینے والی خصلت کب سےآگٸ۔۔میں اتنی گر گٸ ہوں۔۔میری یہ تربیت تو نہی کی تھی۔یہ اذان شاہ جو میری جان بن چکا تھا کوٸی اپنی جان کو ایسے تڑپاتا ہے کیا۔۔

جو شخص ایک اونچی آواز برداشت نہی کرتا تھا وہ میری ہر بےعزتی کو سہہ رہا۔جس شخص کے بوٹ سوٹ نکالنے کے لٸے الگ الگ نوکر ہیں۔۔وہ یہاں میرے گھر میں جھاڑو پوچا لگا رہا ایک مہینے سے۔۔

اور کتنا مشال اذان شاہ تم خود کو بےحس کرو گی

وہ ہاتھ بڑھا رہا ہے تم ہاتھ جھٹک رہی ہو تم ناشکری بن رہی ہو۔۔وہ پھوٹ پھوٹ کر رو پڑتی ہے۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صبح اذان شاہ اٹھتا تو ٹاٸم دیکھ کر ھڑبڑا کر باہر بھاگتا ہے۔۔جا کر دیکھتا سارا گھر صاف ستھرا تھا۔اور وہ جلدی سے کچن میں جاتا تو مشال چولہے کے آگے کھڑی ناشتہ تیار کر رہی تھی ۔۔سوری رات کو بھی سوتا رہا اور آنکھ صبح بھی نہی کھلی۔وہ گھبرا کر جلدی جلدی وضاحت کرتا۔آپ جلدی سے منہ ہاتھ دھو لیں میں ناشتہ لگاتی ہوں۔۔۔

وہ نہا دھو کر ٹیبل پر آتا تو اسکا سارا فیورٹ ناشتہ لگا تھا۔۔وہ بس کھانے پر ٹوٹ جاتا ہے۔۔اچانک اسکی نظر اپنی طرف دیکھتی مشال پر پڑتی وہ جلدی سے بولتا بہت سالوں کے بعد اتنا اچھا ناشتہ کیا تو بس اس لٸے ایسے کھا رہا ہوں۔۔وہ مسکرا کر بولتا۔۔

اچھا مطلب ناشتہ میں ہی اچھا بناتی تھی۔وہ مزے سے بولتی ہے۔۔ھاں بالکل۔۔اور پتا ہے میرا تو دل کرتا تھا تمھارے ہاتھ چوم لوں۔۔وہ جلدی سے بولتا ہے۔۔

آپ کچھ زیادہ نہی بولنے لگ گے۔مشال کہتی ہے۔۔

تمہیں برا لگ رہا میرا بولنا۔وہ ہولے سے پوچھتا۔۔

اس سے پہلے وہ جواب دیتی اذان شاہ کا موباٸل بجنے لگ جاتا ہے۔۔پلیز ذرا فون اٹھا لو سنی کا ہے۔

وہ کھاتے ہوۓ بولتا ہے۔۔

بھاٸی پلیز جلدی آٶ۔منال کو پتا نہی کیا ہو گیا ہے

وہ فون اٹھاتی تو سنی کی گھبراٸٕی ہوٸی آواز آتی۔۔

کیا ہوا میری منو کو۔وہ چیخ کر بولتی ہے۔۔

وہ بےہوش ہو گٸ ہے میں ہاسپیٹل لیکر جا رہا ہوں۔۔

اذان شاہ بھی تب تک پاس آجاتا ہے۔اور فون پکڑ کر اسکو تسلی دیتا ہے۔۔

وہ جلدی سے ہاسپیٹل پہنچتے ہیں تو سنی دوڑ کر گلے لگ جاتا ہے۔بھاٸی میں بابا بننے والا ہوں۔۔

کیا سچ میں مشال پرجوش انداز میں بولتی ہے اور پھر سب منال کے پاس جمع ہو جاتے۔۔۔

سنی تو تو ڈاکٹر چھولے دیکر پاس ہوا تھا پاگل انسان تجھے اسکی حالت دیکھ کے تو اندازہ نہ ہوا مگر نبض تو چیک کر لیتا۔۔اذان سنی سے کہتا ہے۔

ارےے بھاٸی یار میں گاٸناکالوجسٹ نہی ہوں۔۔اور نبض کیا چیک کرتا قسم خدا کی اسکو بےہوش ہوتے دیکھ کر تو مجھے بھول گیا کہ میں ڈاکٹر ہوں۔۔

وہ سر کھجا کر بولتا۔۔سب اسکو ایسے دیکھتے جیسے اسکے سر پر سینگھ اگ آۓ ہوں۔۔دوسرے پل کمرا انکے قہقہوں سے گونج اٹھتا ہے۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ کیا کر رہی ہو تم۔اذان شاہ مشال کو بیگ پیک کرتے دیکھ کر اس سے پوچھتا ہے۔۔ہم اپنے گھر جا رہے ہیں۔۔وہ جواب دیتی ہے۔۔اپنے گھر وہ حیرت سےپوچھتا ہے۔جی اپنے گھر۔۔شاہ ولا۔۔

کیا۔وہ حیرت سے چلاتا ہے۔مطلب تم نے مجھے معاف

کر دیا وہ اس سے پوچھتا ہے۔۔

ابھی سوچوں گی۔وہ مزے سے جواب دیتی ہے۔۔

ہییییں۔۔۔یہ کیا بات ہوٸی۔وہ جھنجھلا کر کہتا ہے۔۔

۔۔۔۔۔۔

وہ شاہ ولا پہنچتے۔۔بی بی جی تو خوشی سے نہال تھی۔۔سب کھانا کھا کر بی بی جی کےروم میں جمع ہو جاتے ہیں۔۔تھوڑے دیر تک سب بیٹھتے اور ہولے ہولے سب اٹھ کر چلے جاتے وہ بی بی جی کے ساتھ ہی بیٹھی رہتی۔۔اذان شاہ بےچینی سے لاٶنج میں ادھر ادھر ٹہل رہا تھا۔یار ایسا کوٸی کرتا کیا۔۔۔

وہ جھنجھلا کر رہ جاتا ہے۔۔۔

اگلے تین چار دن وہ اسکو ایسے ہی ستاتی ہے تو چوتھے دن زبردستی اٹھا کر لے جاتا ہے اسکو کمرے میں۔۔پورا کمرا پھولوں سے سجا ہوتا ہے۔۔وہ کیک لاکر اسکے کان میں آ کر بولنا۔۔۔ھیپی انیورسری میری جان۔۔۔مشال کی آنکھوں میں نمی آجاتی ہے۔

ان آنکھوں میں آنسو نہی ہمیشہ خوشیاں جھلملاٸیں گی۔وہ اپنے ہونٹ اسکی آنکھوں پر رکھتے ہوۓ بولتا ہے۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کیک کٹ کر کے اذان شاہ اسکو ٹیرس پر لےکر آتا ہے

اور ہولے سے اس کے کان کہتا ہے پتا ہے بہت پہلے ایک غزل پڑھی تھی میں نے۔۔جب وہ پڑھی تھی تب بار بار تمہارا چہرا سامنے آ رہا تھا۔۔عرض کروں کیا۔وہ مسکرا کر کہتا ہے۔۔ارشاد ۔۔۔ارشاد۔۔وہ کہتی ہے۔

وہ پیچھے سے بانہیں ڈال کر گنگناتا ہے۔۔

میری جان ہے تو۔۔

تم میری ہو تم میری ہو

زندگی کی ایک حقیقت ہو

سکون ہو میری سوچو کا

ٹھنڈک ہو میری سانسون کی

جان ہو یا جان سے زیادہ ہو

سبھی کچھ ہو تم میری جان جاں ہو

ہاں میری روح کا قرار ہو تم۔

میری جان جگر جان وفا ہو تم

ہاں میری جان ہو تم۔۔۔۔۔۔

آٸی لو یو مشی جان۔۔

مشال اسکے اس قدر خوبصورت اقرار سے خود کو اسکی محبت کے مضبوط حصار میں محسوس کرتی ہے۔اور اسکے سینے کے ساتھ لگ کر ہولے سے بولتی ہے آٸی لو یو ٹو جان مشی۔۔۔۔

وہ خوشی سے سرشار ہوکراسکو خود میں بھینچ لیتا ہے۔۔اور چاند ان پر اپنی چاندنی نچھاور کر رہا ہوتا ہے۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔ختم شد