📱 Download the mobile app free
Home > Meri Jaan Hai Tu By Umme Emman Fatima NovelM80071 > Meri Jaan Hai Tu (Episode - 2)
[favorite_button post_id="16338"]
47681 Views
Bookmark
On-going

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Meri Jaan Hai Tu (Episode - 2)

Meri Jaan Hai Tu By Umme Emman Fatima

اس لڑکى کى زبان اتنى لمبى هے ڈر لگتا مجهے اس کے مستقبل کا سوچ کر۔آمنه خاتون اپنے سینے کو مسلتے هوئے بولى۔

امى آپ پرىشان نه هو،آپ کى طبیعت خراب هو جائے گى مشال گبهرا کر آمنه خاتون کا دھیان بٹانے کى کوشش کرتی هے۔

کیسے پریشان نه هوں،،اگر مجهے کچھ هو گیا تو کیا هوگا تم دونوں کا یه سوچ کر میرى جان جاتى۔آمنه خاتون رونے لگ جاتى۔۔مشال انکو چپ کرواتى اور اذان شاه کى آفر قبول کرنے کا سوچتى۔۔

۔۔۔۔۔۔

یار بهائى کیسے منایا مشال جى کو آپ نے،سنى اس سے دوبارہ پوچهتا،

کس نے کہا وه مان گئى۔اذان اطمینان سے جواب دىتا،

تو پهر؟؟؟ سنى حیران هو کر پوچهتا۔۔

مگر آج وه مان جائے گى۔اذان کهتا هے۔

لیکن کیسے بهائى؟؟.کهى کچھ غلط تو نهى کر رهے ۔سنى پریشان هو کر سوال کرتا هے۔

ایسا کچھ نهى۔تم کو کالج نهى جانا جو یهاں آ کر سر کها رهے ميرا اذان اسکو ڈانٹ کر کهتا هے۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔

مس مشال فائل لیکر ميرے روم ميں آئے۔اذان مشال کو کهتا هے۔۔

مشال فائل لیکر آتى هے تو اذان اس سے دوبارہ پوچھتا هے اپنى آفر کے بارے ميں ۔تو مشال اپنى انگلیوں کو چٹخاتے هوئے کهتى مجهے منظور هے۔

اذان شاه اٹھ کر پاس آ کر بولتا۔بهت اچها فيصله لیا اور تم فکرمت کروں همارا رشتہ صرف کاغذى هو گا کچھ امیدیں نهى رکھے گے هم اک دوسرے سے۔

مشال سر جهکا کر اپنے آنسوؤں کو چهپانے کى کوشش کرتى هے۔

…………

منو دروازه کهولو جا کر کب سے کوئى دروازه پر هے،

منال هُمجهنجهلا کر اٹهتى هے ،

اور دروازه کهولتى سامنے سنى کو سر سے پاؤں تک دیکهتى اور پوچهتى جى آپ کى تعریف۔

سنى شرارت بهرے انداز میں بولتا تعریف اس خدا کى جس نے آپ کو بنایا اور پهر مجھ سے ملایا ،

شٹ اپ۔منال غصے میں بولتى، پىچهے سے بى بى جى سنى کو کهتى سنى مجھے نکالو گاڑى سے،اوه سورى بى بى جى،سنى جلدى سے گاڑى سے بى بى جى کو نکالتا اور بى بى جى منال کو دیکھ کر پوچهتى کیا مشال بىٹى هے؟

جى آپو اندر هے مگر آپ هے کون ؟ منال آگے سے پوچهتى هے۔هم مشال کے باس اذان شاه کے گهر سے آئے بى بى جان جواب دیتى۔

اوووووه اچها۔منال انکو اندر آنے کا کهتى اور بیٹهک ميں بیٹها کر مشال اور آمنه خاتون کو بلانے جاتى۔

،۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اسلام علیکم ،،آمنه خاتون اندر آ کر بى بى جى کو سلام کرتى۔اور حال احوال پوچھتى۔

جى ميں اذان شاه کى دادى هوں آپ کى بیٹى سے ایک دو بار ملاقات هوئى مجهے اپنے پوتے کیلئے ایسى هى لژکى چاهئے تهى،آج آپ سے آپکى بیٹى کا هاتھ مانگنے آئى هوں بى بى جى آمنه خاتون سے مشال اور اذان کے رشتے کى بات کرتى هے۔

جى آپ کے آنے کا مقصد جان کر خوشى هوئى میں مشى سے پوچھ کر آپ کو جواب دوں گى،

اسلام علیکم ،مشال چائے لیکر اندر آتى اور سلام کرتى۔

ادهر آؤ بچے میرے پاس۔بى بى جى مشال کو کهتى۔

مشال پاس آ کر بیٹهتى تو بى بى جى اس کے سامنے اپنى بات رکهتى تو مشال کهتى امى جو چاهے،

تو آمنه خاتون کا چهره کهل اٹهتا اور وه کهتى میرى طرف سے هاں هے مگر مجهے اپنے دیور اور نند سے بات کرنى هو گى پهر بتاؤ گى آپ کو

ان سے بات کرنے کى کیا ضرورت هم ان سے لیکر نهى کهاتے منال تڑخ کر بولتى هے۔

منو جاؤ یهاں سے۔آمنه خاتون ناراضگى بهرے انداز میں کهتى۔

منال پاؤں پٹخ کر وهاں سے نکل جاتى،

معاف کیجئے گا میں منال کیطرف سے معزرت چاهتى بس لاڈ پیار میں بدتمیز کو گئى۔آمنه خاتون شرمندگی سے وضاحت کرتى۔

ارے نهى اس کى ضرورت نهى بس رشتے داروں کےرو یوں سے بچے تلخ هو جاتے،، بى بى جى آگے سے کهتى ۔

اجازت دے اب اور هم فون کرے گے کل پهر ۔بى بى جى آمنه خاتون کو کهتى ۔

جى۔اچها،، آمنه خاتون نے آگے سے جواب دیا ۔۔